Al-Risala · May 2000 · page 45

There will be some delay in landing.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵

استعمال نہ کر سکا۔ یہی غم زیادہ شدید انداز میں آخرت میں انسان کو لاحق ہو گا۔ کھوئے ہوئے مواقع (missed opportunities) کی تلخ یاد موجودہ دنیا میں بھی آدمی سے اس کا سکون چھین لیتی ہے پھر آخرت میں کھوئے ہوئے مواقع کی تلخ تر یاد آدمی کو کتنا زیادہ بے چین کرے گی اس کا اندازہ کرنا آج کے حالات میں ممکن نہیں۔

حیدر آباد سے واپسی کے بعد وہاں کے ایک صاحب نے حیدر آباد کے روزنامہ منصف (۱۱ فروری ۲۰۰۰) میں چھپا ہوا ایک مراسلہ بھیجا۔ اس کے مراسلہ نگار صفدر حسین (اکبر باغ) تھے۔ اس مطبوعہ مراسلہ کا ایک اقتباس یہ ہے۔ "ہمارے خیال میں مولانا وحید الدین جیسا پایہ کا عالم ڈھونڈے سے بھی ہندو پاک میں نہیں ملے گا۔ حال ہی میں مولانا نے حیدر آباد میں ایک خطاب کیا جس کا عنوان یہ تھا: اکیسویں صدی میں اسلام۔ مولانا موصوف نے اپنے فکر انگیز خطبے میں جہاں بہت سی اچھی باتیں بتائیں وہیں سب سے اچھی اور کار گر بات یہ کہی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو غیر مسلم اکثریت سے نمٹنے کے لئے ”یک طرفہ صبر“ کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے۔ اس کو اگر پھیلائیں تو بات قدم بوسی تک پہنچتی ہے۔ ہمارے شکوک وشبہات کو دور کرنے کے لئے اس یک طرفہ صبر کی وضاحت فرمائیں تو ہم چین کی نیند سو سکیں گے"۔

یہ شک وشبہ تمام تر غلط فہمی کی بنا پر ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں جو بات کہی تھی وہ صبر برائے صبر نہیں تھی بلکہ صبر برائے استخدام فُرَص (استعمال مواقع) تھی۔ میں جب صبر کی بات کرتا ہوں تو وہ کسی کے آگے جھکنے کے لئے نہیں بلکہ مواقع دعوت کو استعمال کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ آپ کسی بھی امکان کو اس حکمت کے بغیر اپنے حق میں استعمال نہیں کر سکتے۔ مزید یہ کہ دعوتی کام کے لئے صبر کی ضرورت صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ تمام ملکوں میں ہے، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک۔ حکیمانہ صبر کے اسی اصول کو استعمال کر کے تبلیغی جماعت اور تمام اسلامی ادارے ترقی کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہر مسلمان جو اپنے ذاتی معاملات میں کامیاب ہے وہ اسی حکمت صبر کو استعمال کرنے کی وجہ سے کامیاب ہے۔ صبر فطرت کا ایک اصول ہے۔ اس اصول کو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page