Al-Risala · May 2000 · page 48

There will be some delay in landing.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۸

مسلمانوں کو جانتے تھے ان کی پہچان ان کے نزدیک صرف یہ تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کے وکیل بیس وہ مسلمانوں کے ملی مفادات پر لکھتے اور بولتے ہیں نہ کہ تمام لوگوں کے مفادات پر۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ انہوں نے راقم الحروف کی صورت میں غالباً پہلی بار ایک ایسے مسلم عالم یا مسلم رہنما کو دریافت کیا ہے جس کی پہچان ان کی نظر میں غیر فرقہ وارانہ ہے۔ جس کی سوچ پورے ملک اور پوری انسانیت پر مبنی ہے۔ جوان کے نزدیک ہندوؤں کا بھی اتنا ہی خیر خواہ ہے جتنا کہ مسلمانوں کا۔ میں پچھلے ہیں سال سے برابر حیدر آباد جاتا رہا ہوں۔ اور وہاں کے مختلف پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہوں۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ میرے جلسوں میں کچھ پر جوش نوجوان میری باتوں پر اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ یا وہاں کے مسلم اخباروں اور رسالوں میں میرے خلاف مراسلے اور مضامین چھپتے تھے۔ مگر موجودہ سفر میں اس قسم کی کوئی منفی مثال سامنے نہیں آئی۔ عام طور پر میرے خیالات کی تائید کی گئی، افراد کی طرف سے بھی اور پریس کی طرف سے بھی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے میری جو بات لوگوں کو صرف ایک خیالی نظریہ معلوم ہوتی تھی وہ اب ایک عملی واقعہ بن چکی ہے۔ آزادی کے بعد کے زمانے میں ملک کے تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان صرف یہ لکھنا اور بولنا جانتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کوئی اسکوپ نہیں۔ جب کہ میں یہ کہتا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کا اسکوپ مکمل طور پر موجود ہے۔ چنانچہ الفاظ کے جنگل میں اس وقت میری بات لوگوں کو اجنبی معلوم ہوتی تھی۔ مگر اب دو اور دو چار کی طرح لوگوں کو دکھائی دے رہا ہے کہ میں جو بات کہتا تھا وہی درست بات تھی۔ اگر چہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے بارے میں یہ بات میں ۱۹۴۷ کے بعد سے ہی کہتا رہا ہوں۔ اگر نااہل رہنماؤں اور دانشوروں کی لفظی غوغا آرائی نے مسلمانوں کو گمراہ نہ کیا ہو تا تو آج وہ اپنی موجودہ حالت سے کئی گنا زیادہ ترقی کر چکے ہوتے۔ معروف صحافی مسٹر سعید سہر وردی کا ایک مضمون حال میں چھپا ہے جس کا عنوان ہے: کھنڈروں کے بیچ چند مینار۔ انھوں نے اپنے اس مضمون میں کئی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ ہندوستان

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page