There will be some delay in landing.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۹
کے مسلمان غیر معمولی ترقی کر رہے ہیں۔ مثلا عظیم ہاشم پریم جی، یوسف خواجہ حمید، ہانیل ایف خورا کی والا، شہناز حسین، ارشاد مرزا، وغیرہ۔ اس کے بعد مسٹر سعید سہروردی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: ”اس تجزیہ سے مولانا وحید الدین کی اس رائے کی تائید ہوتی ہے کہ جو مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں، تعصب اور امتیاز ان کی راہ کا پتھر نہیں بن سکتے “ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، ۱۰ جنوری ۲۰۰۰)
یہ چند مسلم نام وہ ہیں جنھوں نے حالیہ برسوں میں امتیازی ترقی کی ہے۔ تاہم جیسا کہ میں بار بار کہتا رہا ہوں یہ اقتصادی انفجار (economic explosion) کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا میں اقتصادی مواقع کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ چنانچہ اپنی کوشش کے بقدر ان ترقیاتی مواقع میں ہر مسلمان اپنا حصہ پا رہا ہے۔ ۱۹۴۷ کی حالت سے تقابل کیا جائے تو آج یہاں کا ہر مسلم خاندان پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آئے گا۔
برصغیر ہند میں سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے مسلم رہنما اور دانشور لوگ مسلمانوں کو ایک ہی سبق دے رہے تھے۔ وہ یہ کہ فلاں فلاں رکاوٹ جب تک دور نہ ہو جائے اس وقت تک یہاں کے مسلمانوں کے لئے ترقی کے مواقع نہیں۔ انگریزوں کا سیاسی اقتدار، ہندو اکثریت کا تعصب، آرایس ایس جیسی تنظیموں کی مسلم دشمنی، فرقہ پرستوں کی طرف سے دوسرا آپین بنانے کا منصوبہ، وقت کے ابولہب اور ابو جہل کی تخریبی سازشیں، وغیرہ۔
مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے سو سال سے بھی زیادہ مدت سے مسلمانوں کو یہی سبق دے رہے تھے۔ مگر اب واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب بے دانشی اوربے خبری کی آوازیں تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا نے اپنی دنیا میں مواقع اور امکانات اتنے زیادہ رکھے ہیں کہ کوئی دشمن یا غیر دشمن کسی کاراستہ روک نہیں سکتا۔
اس معاملہ کی ایک چشم کشا مثال یہ ہے کہ نہ صرف برصغیر ہند میں بلکہ پوری مسلم دنیا میں آج سب سے زیادہ دولتمند شخص ہندوستان کا ایک مسلمان ہے۔ وہی ہندوستان جس کے بارے