Al-Risala · June 2000 · page 4

ذکرِ خداوندی

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۴

ذکرِ خداوندی

انسان کی کامیابی کیا ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی قربت نصیب ہو۔ دنیا میں یہ قربت ”ذکر“ کی صورت میں حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں یہ قربت ”جنت“ کی صورت میں خدا کے ذاکر بندوں کو ملے گی۔

ذکر دراصل خدا سے حیاتی قربت کا دوسرا نام ہے۔ آدمی کے شعور اور احساس پر جب خدا کا تصور غالب آتا ہے تو اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دل پر خدا کا خیال چھایا رہتا ہے۔ ہر تجربہ اور مشاہدہ میں اس کو خدا کا جمال و کمال دکھائی دیتا ہے۔ اسی یادِ خداوندی کا نام ذکر ہے۔ جب آدمی پر یاد کی یہ کیفیت غالب آتی ہے تو اس وقت اس کی زبان سے تسبیح و تحمید کے کلمات نکلنے لگتے ہیں۔ یہ کلمات رٹے ہوئے الفاظ نہیں ہوتے۔ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار کو ”ذکر“ کہنا ذکر کی تصغیر ہے۔ ذکر اس سے زیادہ لطیف حقیقت ہے کہ وہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار میں سما سکے۔ ذکر دراصل اپنے آپ کو اللہ میں گم کر دینے کی ایک حالت ہے، یہ بندہ اور خدا کا وہ آخری ملاپ ہے جو موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے۔

جنت خدا کی نعمتوں کا ابدی باغ ہے۔ یہاں خدا کی نعمتیں اپنی آخری اور معیاری صورت میں ظاہر ہوں گی۔ یہ جنت انہیں لوگوں کا حصہ ہے جن کو اللہ کے سچے ذکر کی توفیق حاصل ہوئی۔ ذکرِ خدا کی معرفت میں جینے کا نام ہے۔ اور خدا کی معرفت میں جینے سے زیادہ عظیم کوئی زندگی موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ یہ ذکر کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ اس کا ذریعہ قرآن میں غور و فکر بتایا گیا ہے۔ جب ایک انسان کے اندر ربانی شعور بیدار ہو جاتا ہے تو وہ ہر چیز کو خدائی زاویہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے گرد و پیش کی پوری کائنات میں خدا کے جلووں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ہر چیز اس کے لئے خدا کا تعارف بن جاتی ہے۔ ان لطیف تجربات کے دوران اس کی زبان سے جو کلمات حمد نکلتے ہیں انھیں کا نام قرآنی اصطلاح میں ذکر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page