دیرپا عمل
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۵
دیرپا عمل
ایک روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری(کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة علی العمل)کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ان احب الاعمال الی اللہ ادومہا و إن قل (اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دیرپا ہو، اگرچہ وہ کم ہو) فتح الباری ۱۱؍۳۰۰ اس قول رسول کا ایک تعلق عبادات سے ہے۔ مثلاً نفل نماز یا نفل روزہ میں آدمی کو ایسی مقدار کو اپنا معمول بنانا چاہئے جس کو وہ ہمیشہ جاری رکھ سکتا ہو۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تھوڑے دن تو بہت زیادہ نوافل کا اہتمام کرے اور اس کے بعد وہ کم پر بھی قائم نہ رہے۔ یہ ایک مستقل اصول حیات ہے۔ اور اس کا تعلق زندگی کے ہر پہلو سے ہے، دوسرے لفظوں میں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام بھی شروع کرو اس کو ایسی صورت میں شروع کرو جو برابر جاری رہنے والی (sustainable) ہو ۔ یہ منصوبہ بند عمل کا اہم ترین اصول ہے۔ اس دنیا میں ہر بڑا نتیجہ منصوبہ بند عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اور نتیجہ خیز منصوبہ وہی ہے جو شروع کرنے کے بعد دیر تک جاری رہ سکے۔
اس دنیا میں کسی عمل کا نتیجہ ہمیشہ دیر میں نکلتا ہے۔ تھوڑے وقت میں کوئی بڑا نتیجہ پالینا موجودہ دنیا کے نظام میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں نتیجہ خیز عمل وہی ہو سکتا ہے جو دیرپا عمل ہو۔ جو عمل دیر تک جاری نہ رہے اس کے متعلق پیشگی طور پر جان لینا چاہئے کہ وہ اس دنیا میں بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گا۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ جو کام شروع کرے اس کو مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے۔ اور جس عمل کو مسلسل جاری رکھنا اس کے لئے ممکن نہ ہو اس کو وہ شروع ہی نہ کرے۔ کیوں کہ ایسے آغاز کا کوئی انجام اس دنیا میں ہر گز نکلنے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues