شریف، کمینه
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۸
شریف، کمینه
قال العتبی سمعت اعرابیا یقول: علیم کا قول ہے کہ میں نے ایک اعرابی کو یہ کہتے ہوئے سنا اسوأ ما في الكريم ان يكف عنك کہ شریف آدمی کے لئے سب سے بری چیز یہ ہے کہ وہ اپنا خيره وخير مافي اللئيم ان يكف خیر تم سے روک دے اور کمینہ آدمی کے لئے سب سے عنك شره (الامالی للقالی) بہتر چیز یہ ہے کہ وہ اپنے شر سے تم کو بچائے۔ شریف آدمی وہ ہے جو دوسروں کے لئے نفع بخش ہو۔ جو بولے تو انصاف اور خیر خواہی کی بات بولے۔ اس کے مال اور اس کے اثاثہ میں دوسروں کا حصہ ہو۔ وہ صرف اپنے لئے نہ جئے بلکہ یہ سمجھ کر زندگی گزارے کہ اس کے اوپر دوسروں کا بھی حق ہے۔
جو شخص شریف ہو یا لوگوں کی نظر میں شریف سمجھا جائے، اس کے لئے یہ بات اسی کی شرافت کے خلاف ہو گی کہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچنابند ہوجائے یہ بات اس کے لئے ازالۂ حیثیت عرفی کے ہم معنیٰ ہے کہ اس کا قول اور اس کا عمل دوسروں کے لئے اپنی افادیت کھودے۔ اس کے بر عکس کمینہ آدمی وہ ہے جس کے اندر نفع بخشی کی صلاحیت نہ رہے۔ اس کی زبان لوگوں کی برائی میں کھلے۔ وہ بولے تو بے انصافی اور بد خواہی کی بات بولے۔ وہ صرف لینا جانتا ہو، اس کے یہاں دینے کا کوئی خانہ نہ ہو۔ وہ اپنی ذات کے لئے جی رہا ہو۔ دوسروں سے اس کو کوئی دلچسپی نہ ہو۔
ایسا آدمی دوسروں کے لئے سراپا شر ہوتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا آخری احسان یہ ہے کہ وہ اپنی برائی سے لوگوں کو محفوظ رکھے۔ اس کی کثافت اس کی اپنی ذات تک محدود رہے۔ اس کی کثافت دوسروں تک نہ پہنچنے پائے۔
شریف آدمی خدا کے باغ کا پھول ہے اور کمینہ آدمی خدا کے باغ کا کانٹا۔ شریف آدمی سے لوگوں کو مہک ملتی ہے اور کمینہ آدمی سے صرف تلخی اور اذیت۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues