عالم کون
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۷
عالم کون
فارسی کا ایک قطعہ ہے کہ ــــــ وہ شخص جو نہیں جانتا مگر جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے وہ ہمیشہ جہل مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔ اور جو شخص جانتا ہے مگر جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا وہ ایک لنگڑ اگدھا ہے جو منزل پر پہنچ جائے گا :
آن کس که نداند و بداند که بداند در جهل مرکب ابدالدھر بماند و آن کس که بداند و بداند که نه داند او نیز خر لنگ به منزل برساند عالم ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آدمی کو اپنی بے علمی کا احساس ہونے لگے۔ علم یا معلومات کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کوئی بھی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے ایک بے علم یا جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں۔ مگر جو آدمی علم کے سمندر میں داخل ہو وہ وہاں سے صرف یہ احساس حاصل کرے گا کہ میں تو کچھ نہیں جانتا۔ اس کا ہر علمی اضافہ صرف اس کے احساس بے علمی کو بڑھائے گا۔
علم کی اسی نوعیت کی بنا پر یہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو آدمی علم کی وسیع دنیا سے بے خبر ہو وہ اپنی بے خبری کی بنا پر اس بے بنیاد احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ”میں سب کچھ جانتا ہوں۔ “ ایسا آدمی ہمیشہ جہل مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ بے خبر جیتا ہے اور بے خبر ہی مر جاتا ہے۔ حقائق کی دنیا نا قابل بیان حد تک وسیع ہے۔ قیامت تک لوگ اس کو دریافت کرتے رہیں گے مگر کبھی بھی یہ حقائق ختم نہ ہوں گے۔ ایسی حالت میں جو آدمی یہ سمجھ لے کہ میں عالم ہو گیا اس نے گویا اپنے لئے نئی معلومات کا دروازہ بند کر لیا۔ اس کے برعکس جس کا احساس یہ ہو کہ ابھی میں نے نہیں جانا وہ ہر دن اپنے علم میں اضافہ کر تا رہے گا۔ اس کا بے علمی کا احساس اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ اس کی دریافتوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ ہر روز نئی حقیقتوں سے وہ اپنے علمی خزانہ میں اضافہ کر تا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues