سچائی کی طاقت
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳
سچائی کی طاقت
ایک صاحب اپنے خط مورخہ ۲۷ فروری ۲۰۰۰ میں لکھتے ہیں: مراد آباد میں ہماری ایک پرچون کی دکان (General Store) ہے۔ ہم دکان پر اخبار اور کاپی کی ردی بھی خریدتے ہیں۔ ایک بار ’الرسالہ‘ کے کچھ پرانے شمارے مجھے ردی میں ملے اور میں انھیں گھر لے آیا۔ جب ان کو پڑھ کر دیکھا تو مجھے آپ کے مضامین بہت اچھے لگے۔ پھر میں نے حریم بک ہاؤس (جو کہ محلہ مغلپورہ مراد آباد میں واقع ہے) سے اکتوبر ۱۹۹۸ کا الرسالہ لیا اور اس کے بعد جنوری ۱۹۹۹ سے ہر مہینہ کا الرسالہ لے کر پڑھتا ہوں۔ الرسالہ کو میں ایک نصیحت نامہ سمجھتا ہوں۔ (ارشد علی، محلہ پیرزاده، مراد آباد)
یہ چھوٹا سا واقعہ ایک بہت بڑی حقیقت کو بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ سچائی اپنے اندر لامحدود طاقت رکھتی ہے۔ سچائی ایک ایسا سیلاب ہے جس کو روکنا کسی بھی شخص کے لئے ممکن نہیں۔ سچائی کو اگر کوئی شخص ناقدری کرتے ہوئے اسے ”ردی“ میں فروخت کر دے تب بھی اس کا یہ فعل سچائی کو اس کے قدرداں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ سچائی کے خلاف اگر کوئی پروپیگنڈے کی مہم چلائے تو اس قسم کی مہم صرف سچائی کی اشاعت میں اضافہ کرے گی۔ سچائی کو اگر کوئی شخص اس کے وطن سے نکال دے تو عملاً صرف یہ ہوگا کہ سچائی ملکی دائرے سے نکل کر بین اقوامی دائرہ میں داخل ہو جائے۔ غرض سچائی کے خلاف ہر کارروائی سچائی کے حق میں ایک نیا دروازہ کھولنے کے ہم معنی ثابت ہوگی۔
سچائی اپنے آپ میں طاقت ہے۔ سچائی جب بھی کھڑی ہوتی ہے فطرت کے تمام قوانین اس کی حمایت میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کے تمام عوامل اس کے حق میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ سچائی ایک ایسی ابدی حقیقت ہے جو مغلوب ہو کر بھی غالب رہتی ہے۔ سچائی اگر بظاہر خاکستر دکھائی دے تب بھی اس کے اندر ایک ایسا شعلہ موجود رہتا ہے جو بھڑک کر ساری دنیا کو روشن کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues