مسلسل کوشش
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴
مسلسل کوشش
سید فرید الوحیدی (پیدائش ۱۹۳۰) مشہور مجاہد آزادی مولانا وحید احمد مدنی (وفات ۱۹۳۸) کے صاحبزادے ہیں۔ مولانا مرحوم برٹش دور میں ان علماء کے ساتھ تھے جن کو مالٹا میں نظر بند (۱۹۱۸-۲۰) کیا گیا تھا۔ جناب سید فرید الوحیدی صاحب نے ابتدائی تعلیم دار العلوم دیو بند میں حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے عربی میں ایم اے کیا۔ اس کے علاوہ بی ایڈ بھی کیا۔ ان کے لئے یہ موقع تھا کہ وہ اپنی بی ایڈ کی ڈگری کو استعمال کر کے کسی اسکول یا کالج میں ملازمت حاصل کر لیں۔ یہ ان کے لئے سہولت کی زندگی ہوتی۔ مگر سہولت کو ترک کر کے انھوں نے محنت کا راستہ اختیار کیا۔ انھوں نے ملازمت کے بجائے تجارت کو اپنی جد و جہد کا میدان بنایا۔ اب وہ اس حدیث رسول کی ایک زندہ تفسیر ہیں کہ: تسعۃ اعشار الرزق في التجارة (رزق کا ۹۰ فیصد حصہ تجارت میں ہے)۔
تاہم اپنے حالات کے اعتبار سے تجارت کو اختیار کرنا ان کے لئے آسان راستہ کو چھوڑ کر مشکل راستہ کو اختیار کرنا تھا۔ کیونکہ تجارت کے لئے سرمایہ درکار تھا۔ اور ان کے پاس سرمایہ موجود نہ تھا۔ مگر انھوں نے اپنے عمل سے اس مشہور مقولہ کی صداقت کو ثابت کر دیا کہ ــ محنت ہر چیز کا بدل ہے۔
جب ان کی عمر تقریباً ۲۰ سال تھی، انھوں نے سرمہ سے اپنی تجارت کا آغاز کیا۔ اس وقت ان کے پاس کوئی رقم نہ تھی۔ انھوں نے کسی سے دس روپیہ بطور قرض حاصل کیا۔ اس کے بعد انھوں نے سرمہ کی ڈلیاں خرید یں کسی سے عاریۃً کھرل حاصل کیا۔ اور رات دن کی محنت سے ڈلیوں کو پیس کر سرمہ بنایا۔ پھر اس کو شیشیوں میں بھرا۔ انھوں نے اپنے سرمہ کا نام سرمہ نور رکھا۔ اس وقت کوئی دکان دار ان کے غیر مشہور سرمہ کو اپنی دکان پر رکھنے کے لئے تیار نہ ہو سکتا تھا۔ اس کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ وہ ایک دن دیو بند ریلوے اسٹیشن پر ٹرین میں سوار ہو گئے اور
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues