دلائل قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵
طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ خود سائنسی تحقیق نے بتایا ہے کہ انسان اپنی پیدائشی محدودیت کی بنا پر کسی علم کا کلی احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے سائنس میں جزئی واقفیت ہی کی بنیاد پر تمام نظریات قائم کئے گئے ہیں۔ یہی سائنسی طریقہ وحی کے بارے میں بھی انسان کو اختیار کرنا چاہئے۔ قرآن خدا کا کلام ہے، وہ پیغمبر اسلام کا اپنا کلام نہیں۔ اس کا ایک سادہ ثبوت قرآن و حدیث کی زبان کا فرق ہے۔ حدیث خود پیغمبر اسلام کا اپنا کلام ہے اور قرآن وہ کلام ہے جس کو پیغمبر اسلام نے خدا کا کلام بتا کر پیش کیا۔ جب دونوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی زبان اور قرآن کی زبان کے درمیان واضح اور نمایاں فرق ہے۔ حدیث اپنی تمام خوبیوں کے باوجود ایک "بشر" کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنے غیر معمولی اسلوب کی بنا پر ایک بر تر شاہانہ کلام دکھائی دیتا ہے۔ حدیث کی زبان اور قرآن کی زبان کا یہ فرق اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ کوئی بھی عربی داں جو دونوں کو تقابلی طور پر پڑھے، وہ اس فرق کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دونوں کا یہ فرق اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے نہ کہ خود رسول کا کلام۔
دوسری چیز یہ کہ قرآن کے کلام میں معنوی اعتبار سے ایسے مختلف استثنائی پہلو ہیں جو کسی بھی انسان کے کلام نہیں پائے نہیں جاتے۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ قرآن میں فلکیات، طبیعیات، حیاتیات، ارضیات، نباتات، حیوانات، اور تاریخ، وغیرہ کے بارے میں ایسے بیانات ہیں جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کسی بھی انسان کو معلوم نہ تھے جب کہ قرآن نازل ہوا۔ یہ حقائق پہلی بار صرف انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں انسان کے علم میں آئے۔ ان حوالوں کا استثنائی طور پر قرآن میں موجود ہونا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن خداوند عالم الغیب کا کلام ہے۔ کوئی انسان اس قسم کی پیشگی اطلاع پر قادر نہیں ہو سکتا۔
اس نوعیت کی بہت سی مثالیں راقم الحروف نے اپنی کتابوں میں درج کی ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، عظمتِ قرآن، مذہب اور جدید چیلنج کا متعلق حصہ۔ اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues