مطالعہ قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴
مطالعہ قرآن
ایک آسمانی کتاب کا کسی انسان پر اترنا ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔ قدیم عرب میں یہ غیر معمولی واقعہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتہ جبرئیل کے ذریعہ قرآن کو مکہ کے محمد بن عبد المطلب کے اوپر اتارا۔ قرآن کا یہ نزول تقریباً تئیس سال میں پورا ہوا۔ اس کا ابتدائی حصہ ۶۱۰ء میں مکہ میں اترا اور اس کا آخری حصہ ۶۳۲ء میں مدینہ میں نازل ہوا۔
دلائل قرآن
یہ قرآن کس طرح پیغمبر اسلام پر اترا۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وإنه لتنزيل رب العالمين نزل به الروح الأمين على قلبك لتكون من المنذرين، بلسان عربی مبین، وإنه لفى زبر الأولين، (الشعراء ۱۹۲-۱۹۶) یعنی اور بے شک یہ خداوند عالم کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔ تمہارے دل پر تا کہ تم ڈرانے والوں میں سے بنو۔ صاف عربی زبان میں اور اس کا ذکر اگلے لوگوں کی کتابوں میں ہے۔
نزول وحی (روح) کی مزید تفصیلات حدیث میں آئی ہیں۔ وحی کی حقیقت کے بارے میں عرب میں سوال کیا گیا تو قرآن میں اس کا جواب اس طرح دیا گیا: ويسئلونك عن الروح، قل الروح من أمر ربی و ما اوتيتم من العلم الا قلیلاً (بنی اسرائیل ۸۵) یعنی اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سوال کے سلسلہ میں اصل مسئلہ اس کا براہ راست جواب دینے کا نہیں ہے بلکہ خود سائل کی اپنی محدودیت کا ہے۔ کیوں کہ سائل اپنی فطری محدودیت کی بنا پر اس مسئلہ کو صرف جزئی طور پر ہی سمجھ سکتا ہے، وہ کلی معنی میں اس کی نوعیت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ یہ جواب عین سائنٹفک ہے۔ دنیا کی تمام چیزوں کے مطالعہ کے لئے سائنس میں عین یہی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues