Al-Risala · June 2000 · page 27

دلائل قرآن

الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷

اپنے ساتھ کاغذ اور قلم بھی لئے ہوئے تھے تاکہ سفر کے دوران اگر قرآن کا کوئی حصہ اترے تو اس کو فورا لکھ لیا جائے۔

قرآن کو محفوظ کرنے کا یہ اہتمام بیک وقت دو طریقوں سے جاری تھا۔ ایک، نزول کے بعد فوراً اس کو لکھ لینا ۔ دوسرے، اس کو باقاعدہ یاد کر لینا۔ اس طرح ایک طرف تقریباً دو درجن کاتب وحی کتابت کے عمل میں مصروف رہتے تھے۔ اور دوسری طرف ہزاروں کی تعداد میں آپ کے ایسے اصحاب تھے جو قرآن کو لفظاً بالفظ یاد کر لیتے تھے۔ واضح ہو کہ دورِ پریس سے پہلے دنیا بھر میں چیزوں کو یاد رکھنے کا رواج تھا اس لئے کثرت استعمال کی بنا پر اس زمانہ کے لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر قدیم عرب میں ایسے ہزاروں لوگ تھے جن کو لمبے لمبے نسب نامے اور بڑے بڑے قصیدے زبانی یاد تھے۔ اور وہ ان کو اپنے حافظہ کی مدد سے مجلسوں میں پڑھا کرتے تھے۔

اس طرح قرآن حسب موقع اترتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ پہلے مکمل ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر عمر میں جب کہ قرآن کے تمام حصے اتر چکے تھے، خدا کے حکم سے جبرئیل آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے قرآن کے تمام نازل شدہ حصوں کو موجودہ مصحف کے مطابق ترتیب دیا۔ اور پھر مکمل قرآن سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ الناس تک سلسلہ وار پڑھ کر سنایا۔ اور پھر اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن کو سلسلہ وار پڑھ کر سنایا۔ اس طرح جبرئیل کے سامنے مکمل طور پر پڑھنے کا واقعہ دو بار ہوا۔ پہلے کو عرضِ اولیٰ کہا جاتا ہے اور دوسری بار پڑھے جانے کو عرضہ اخیرہ۔ ۶۳۲ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت قرآن ہر اعتبار سے محفوظ اور مکمل ہو چکا تھا۔ البتہ وہ ایک مجلد کتاب کی صورت میں اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ یہ آخری کام خلیفہ اول ابو بکر صدیق کی ہدایت کے تحت انجام پایا۔ خلیفہ اول نے اس مقصد کے لئے زید بن ثابت انصاری کو مقرر کیا جو اس خاص کام کے لئے صحابہ میں سب سے زیادہ اہل سمجھے جاتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues

Printed page