دلائل قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
حضرت زید بن ثابت نے اس کام کے لئے وہ آخری اہتمام کیا جو کسی انسان کے لئے ممکن ہو سکتا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ لوگوں کے پاس قرآن کے لکھے ہوئے جتنے اجزاء ہیں وہ سب کے سب لائے جائیں۔ چنانچہ سب کے سب کتابت شدہ اجزاء حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دئے گئے۔ وہ خود قرآن کے مکمل حافظ تھے۔ تاہم انہوں نے مزید احتیاط کے لئے کچھ اور حفاظ کو اپنی مدد کے لئے مقرر کیا۔
اب وہ عمل شروع ہوا جس کو ایک مستشرق نے بجاطور پر چیکنگ کا دہرا طریقہ (double checking system) کا نام دیا ہے۔ یعنی ایک طرف قاری قرآن کے حصے پڑھتا تھا اور دوسری طرف اس پڑھے ہوئے حصے کی مطابقت تحریری ذخیرہ سے کی جاتی تھی۔ اور جب تحریر اور حافظہ دونوں ایک دوسرے کے مطابق ثابت ہوجاتے تھے تو اس کو اس زمانہ کے دستیاب کاغذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔ اس طرح دہرا چیکنگ کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے پورے قرآن کو از اول تا آخر ترتیب کے ساتھ اس زمانہ کے قابل حصول کاغذ پر لکھا گیا۔ اور پھر اس کی سلائی کر کے اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت دی گئی۔ چونکہ پہلا مصحف چوکور تھا اس لئے وہ ربعہ کہا جانے لگا۔
اس ربعہ (مصحف اول) کو خلیفہ ابو بکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ بن عمر کے پاس رکھوا دیا۔ یہ مصحف اول اسی حالت میں حضرت حفصہ کے پاس محفوظ رہا۔ یہاں تک کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان کا زمانہ آیا۔ انھوں نے اس مصحف اول کو حضرت حفصہ کے پاس سے منگوایا اور سرکاری اہتمام کے تحت اس کی متعدد نقلیں تیار کرائیں۔ اور پھر ان تیار شدہ سرکاری نسخوں کو مسلم دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بھیج دیا اور یہ حکم دیا کہ یہ مصاحف شہر کی جامع مسجدوں میں رکھے جائیں تاکہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے بعد ہر شہر میں لوگ ان مصاحف کی مزید نقلیں تیار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قرآن کے ہزاروں صحیح نسخے ایشیاء سے لے کر افریقہ تک ہر ملک میں پھیل گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues