Al-Risala · July 2000 · page 4

آخرت کی یاد

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴

آخرت کی یاد

موجودہ دنیا اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ آدمی کے لئے آخرت کی پیشگی یاد دہانی بنے۔ دنیا کا ہر نقصان اس لئے ہے کہ آدمی آخرت کو یاد کرے اور یہ کہے کہ خدایا تو آخرت میں میرے نقصان کی تلافی فرما۔ دنیا کا آرام اس لئے ہے کہ آدمی آخرت کو یاد کر کے یہ کہہ سکے کہ خدایا، دنیا کا آرام وقتی ہے، تو مجھے آخرت کے ابدی آرام سے سرفراز فرما۔ دنیا اس لئے نہیں ہے کہ آدمی اس کو اپنا سب کچھ سمجھ لے۔ بلکہ دنیا اس لئے ہے کہ وہ آدمی کے لئے ایک ربانی تجربہ گاہ بن جائے۔ وہ تخلیق کے ہر مشاہدہ میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔ انسانوں کے ساتھ ہر معاملہ اس کے سینہ میں داخل ہو کر روحانی تجربہ میں ڈھل جائے۔ دنیا اس کے لئے ایک ایسی گزرگاہ بن جائے جہاں اس کا ہر قدم اس کو آخرت کی منزل کی طرف لے جا رہا ہو۔

انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں بظاہر آخرت کا کوئی نشان نہیں۔ مگر انسان کو فہم و بصیرت کی طاقت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ محسوس دنیا میں غیر محسوس آخرت کا مشاہدہ کرنے دنیا کے تجربات کو وہ آخرت کے تجربات میں تبدیل کر تا رہے۔ دنیا کی تکلیف میں وہ جہنم کا ادراک کرے۔ دنیا کی راحت اس کے لئے جنت کا ابتدائی تعارف بن جائے۔

آخرت کی کامیابی کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آدمی کلمہ کو صحت تلفظ کے ساتھ دہرا دے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ عقیدہ اس کے لئے ذاتی دریافت بن جائے۔ وہ اس کے شعور کی گہرائیوں میں تیر جائے۔ وہ اس کے لئے مشاہدہ اور تجربہ کا درجہ حاصل کرلے۔ اس دنیا میں آدمی کو نہ دکھائی دینے والی حقیقت کو دیکھنا ہے۔ اس کو نہ سنائی دینے والی آوازوں کو سننا ہے۔ اندھیروں میں چھپی ہوئی حقیقت کو غیر مشتبہ یقین کی صورت میں پالینا ہے۔ ایسا ہی انسان وہ انسان ہے جس نے خداکو پایااوریہی وہ انسان ہے جس کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page