Al-Risala · July 2000 · page 5

اعتراف عجز

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۵

اعتراف عجز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں ایک شخص پیدا ہوا۔ اس کا نام عبد اللہ بن جدعان تھا۔ وہ نہایت شریف اور سخی آدمی تھا۔ کثرت سے لوگوں کو کھلاتا تھا اور لوگوں کی مدد کرتا تھا۔

عبد اللہ بن جدعان کے بارہ میں ایک روایت صحیح مسلم میں آئی ہے جو کہ حسب ذیل ہے:

عن عائشة قالت یا رسول الله ان حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ ابن جدعان كان يطعم الطعام سے کہا کہ اے اللہ کے رسول، عبد اللہ بن جدعان ويقرى الضيف، فهل ينفعه ذالك لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا اور مہمانوں کی عزت کرتا تھا۔ يوم القيامة. فقال رسول الله کیا اس کا یہ عمل قیامت کے دن اس کو فائدہ پہنچائے صلى الله عليه وسلم لا، انه لم گا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، کیوں کہ اس نے کسی دن يقل يوماً رب اغفرلی خطیتتی یہ نہ کہا کہ اے میرے رب، جزا کے دن میرے گناہ کو يوم الدين. بخش دے۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ کیا ہے۔ وہ اعتراف ہے۔ بندہ جب اپنی بندگی اور خدا کی خدائی کی پہچان حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر شدید طور پر اپنی عاجزی کا احساس طاری ہوتا ہے۔ خدا کی عظمت اور کمال کے سامنے اس کو اپنا وجود سراپا تقصیر نظر آنے لگتا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے آگے گر پڑے۔ وہ خدا سے رحمت اور بخشش کی التجا کرنے لگے۔

”خدایا مجھے بخش دے“ عجز کا کلمہ ہے۔ اور عجز کا کلمہ ہی جنت کی آخری قیمت ہے۔ جس آدمی کے پاس نہ عمل ہو اور نہ اعتراف بے عملی تو اس کو جنت آخر کس بنیاد پر دی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page