غیر ضروری ٹکراؤ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۸
غیر ضروری ٹکراؤ
موجودہ زمانہ میں مذہب اور سائنس کے درمیان جو نظریاتی ٹکراؤ ہوا وہ اکثر غیر ضروری تھا۔ جن چیزوں کو مذہب کے خلاف فرض کر لیا گیا ان کا تعلق نہ مذہب کی مخالفت سے تھا اور نہ موافقت سے۔ اس کی ایک مثال ارتقاء کا نظریہ ہے۔
مگر خالص علمی نقطۂ نظر سے دیکھئے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ نظریہ ارتقاء بالفرض صحیح ہو، تب بھی مذہب کے ساتھ اس کا کوئی واقعی ٹکراؤ نہیں ہے۔ کیوں کہ نظریہ ارتقاء جس چیز سے بحث کرتا ہے وہ خدا کا وجود یا عدم وجود نہیں ہے بلکہ صرف یہ کہ ذی حیات اشیاء کانشووار تقاء کیسے ہوا۔ وہ خالق کے مسئلہ کا جواب نہیں بلکہ طریق تخلیق کے مسئلہ کا جواب ہے، خواہ خالق کوئی بھی ہو۔ چنانچہ مسلم محققین جو عیسائی علماء کی طرح غلط عقائد کی پیچیدگی میں مبتلا نہیں تھے، انھوں نے بروقت اس نکتہ کو محسوس کیا اور اس کی صراحت کی۔ مثال کے طور پر طرابلس کے شیخ حسین الجسر (۱۹۰۹ء-۱۸۲۵ء) کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ انیسویں صدی میں جبکہ عیسائی علماء نظریہ ارتقاء کو مذہب دشمن قرار دے کر سائنس دانوں سے لڑ رہے تھے، شیخ جسر نے اپنی کتاب ”الرسالة الحميدية في حقيقة الديانة الاسلامية “ میں نشاندہی کی کہ نظریہ ارتقاء کا مذہب سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ کیونکہ بالفرض وہ صحیح ہو تب بھی وہ صرف خدا کے طریق تخلیق پر روشنی ڈالتا ہے، نہ کہ خدا کے وجود کی نفی کرتا ہے، جیسا کہ خود ڈارون نے اس کو یہی حیثیت دی ہے۔ ڈارون کے نزدیک ارتقاء سے خدا کے وجود کی نفی نہیں ہوتی بلکہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ خالق (Creator) کا طریق تخلیق (process of creation) کیا تھا۔
اہل مذہب کو اس معاملہ میں فتویٰ اور مناظرہ کا انداز چھوڑ کر یہ کہنا چاہئے تھا کہ ارتقاء کے حق میں سائنٹفک دلائل پیش کرو۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوتا کہ اس نظریہ کے حق میں کوئی حقیقی سائنٹفک دلیل موجود ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues