Al-Risala · July 2000 · page 7

پانچ اصول

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۷

پانچ اصول

اصول فقہ کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر قاعدے پانچ بنیادی اصولوں میں منحصر ہیں (ان اعظم القواعد الفِقْھِیَّۃِ تنحصر فی خمس) ان پانچ سے سیکڑوں ضابطے نکلتے ہیں جو بیشتر امور کو اپنے دائرہ میں لے لیتے ہیں۔ یہ پانچ اصول (القواعد الخمس الذَھَبِیَّۃُ یہ ہیں: ۱۔ الْأُمُورُ الامور بمقاصدھا معاملات کا انحصار نیت اور قصد پر ہے۔ ٢۔ اليقين لا يزال بالشك یقین کبھی شک سے زائل نہیں ہوتا۔

٣۔ الضرر يزال نقصان کو دور کیا جائے گا۔

۴۔ المشقة تجلب التيسير مشقت آسانی لے آتی ہے۔

۵۔ العادة محكمة عرف اور رواج قابلِ لحاظ ہیں۔

آدمی جب بھی کوئی کام کرے یا کوئی قدم اٹھائے تو سب سے پہلے اس کی نیت دیکھی جائے گی۔ اگر اس کی نیت درست ہے تو اس کا اقدام درست ہے اور اگر نیت درست نہیں تو اس کا اقدام بھی درست نہیں۔

ایک شخص کے عام حالات اگر اس یقین کی طرف لے جا رہے ہوں کہ وہ صحیح آدمی ہے تو محض ایک شک کی بنیاد پر اس کو غلط آدمی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اگر ایک شخص تکلیف میں مبتلا ہے یا کوئی نقصان کی صورت پیدا ہو گئی ہے تو ہر حال میں اس کا ازالہ کیا جائے گا، خواہ وہ کسی کا بھی معاملہ ہو۔

بعض فیصلے بظاہر کسی شخص یا گروہ کو مشقت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں، لیکن اگر فیصلہ صحیح ہے تو باعتبارِ انجام اس سے آسانی ظاہر ہوگی۔

جو چیزیں لوگوں کے درمیان پسندیدہ رواج کی حیثیت حاصل کر لیں، ان کی حیثیت بھی ایک قانون کی ہے۔ امکانی حد تک ان پر عمل کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page