پر امن زندگی کا راز
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۱
پر امن زندگی کا راز
نفسیات کے موضوع پر ایک کتاب چھپی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں پر سکون زندگی گزارنے کا راز کیا ہے۔ یہ کتاب پہلی بار یارک شائر(بر طانیہ)سے سے 1970ء میں چھپی ہے۔ ۔ ۲۷۰صفحہ کی اس کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے:
Thomas A Harris, MD, I AM OK- YOU ARE OK
اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی جب سماج میں زندگی گزارتا ہے تو دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات کی چار حالتیں ہو سکتی ہیں۔ ۔ انہیں کے الفاظ میں وہ چار حالتیں یہ ہیں: 1. I AM NOT OK — YOU ARE OK 2. I AM NOT OK — YOU ARE NOT OK 3. I AM OK — YOU ARE NOT OK 4. I AM OK — YOU ARE OK یعنی پہلی حالت یہ ہے کہ میں ٹھیک نہیں اور تم ٹھیک ہو دوسری حالت یہ کہ میں بھی ٹھیک نہیں اور تم بھی ٹھیک نہیں۔ تیسری حالت یہ ہے کہ میں ٹھیک ہوں اور تم ٹھیک نہیں اور چوتھی حالت یہ ہے کہ میں بھی ٹھیک اور تم بھی ٹھیک۔ (42 .p)
کتاب کے مصنف کے نزدیک صرف آخری اور چوتھی حالت ہی درست حالت ہے۔ ابتدائی تین حالتیں درست نہیں۔ ابتدائی تین حالتوں میں آدمی کو ذہنی سکون (peace of mind) نہیں ہو سکتا، جب کہ آخری حالت کا یہ نتیجہ ہوگا کہ آدمی کو پوری طرح ذہنی سکون حاصل ہو جائے گا۔
مگر پر سکون زندگی کا یہ فار مولا کوئی درست فار مولا نہیں۔ یہ اس نظریہ پر مبنی ہے جس کو فلسفہ میں نظریہ افادیت (utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ نظریہ افادیت کی تشریح اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اصول کہ کسی چیز کی قدر و قیمت تمام تر اس کی عملی افادیت سے متعین ہوتی ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues