Thomas A Harris, MD, I AM OK- YOU ARE OK
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۲
The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility. (Webster's Dictionary) نظریۂ افادیت کو اگر درست مان لیا جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ حیوان کے اندر جبلی طور پر خیر و شر کے درمیان کوئی تمیز نہیں۔ حیوان اس فرق کو نہیں جانتا کہ اپنے مالک کے کھیت میں چارہ کھانا صحیح ہے اور غیر کے کھیت میں گھس کر اس کی فصل کھانا غلط۔ مگر انسان کی فطرت میں حق اور باطل کا فرق رکھا گیا ہے۔ وہ فطری طور پر ایک موقف کو درست اور دوسرے موقف کو غلط سمجھتا ہے۔
ایسی حالت میں انسان جیسی مخلوق کے لئے یہ نظریہ درست نہیں ہو سکتا کہ وہ سیاہ اور سفید دونوں کو ایک کہے۔ میں بھی ٹھیک اور تم بھی ٹھیک، جیسا نظریہ کوئی شخص مصنوعی طور پر تو اختیار کر سکتا ہے مگر حقیقی طور پر نہیں۔ ایک آدمی اگر دیانتدار (honest) ہے تو وہ اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ ایک حالت کو ٹھیک سمجھے اور اس کے برعکس حالت کے بارے میں اس کی رائے یہ ہو کہ وہ ٹھیک نہیں۔ میں بھی ٹھیک اور تم بھی ٹھیک کا نظریہ ایک تاجر کے لئے تو مفید ہو سکتا ہے مگر ایک با اصول انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس قسم کے نظریہ کو اپنے دماغ میں جگہ دے۔
اب سوال یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں جہاں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہاں ٹکراؤ سے کیسے بچا جائے اور پر سکون زندگی کیسے حاصل کی جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا درست فارمولا یہ ہے۔ میں اپنے کو حق پر سمجھتا ہوں اور تم کو ناحق پر، مگر میں تمہارا مکمل احترام کروں گا۔ اس فارمولے میں پوری طرح پر امن زندگی حاصل ہو جاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی فطری حقیقت مجروح ہوئی ہو۔
انسان کو مکمل انسانی زندگی گزارنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یقین (conviction) ہے اور اس یقین کے بغیر ایک انسان کی مثال اس درخت کی سی ہے جو اپنی جڑ سے اکھڑ گیا ہو۔ اور اس یقین کو حاصل کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی اس احساس پر کھڑا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues