Thomas A Harris, MD, I AM OK- YOU ARE OK
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵
مقصد کو حاصل کیا جائے۔ کیوں کہ اختلاف اور فرق خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اختلاف اور فرق کو ختم کرنا اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔
ایسی حالت میں سماجی ہم آہنگی کا درست فارمولا باہمی اعتراف (mutual recognition) نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) ہے۔ اس معاملہ میں اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اس تعمیری شعور کو بیدار کیا جائے کہ وہ اختلاف اور فرق کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے زندگی گزار سکیں۔
دنیا میں فرق یا اختلاف کا ہونا کوئی برائی (evil) نہیں۔ بلکہ وہ ایک خوبی ہے جو انسانی ترقی کا زینہ ہے۔ فرق و اختلاف والے ماحول ہی میں لوگ اس اعلیٰ انسانی صفت کی تربیت پاتے ہیں جس کو وسعت قلب اور فراخ حو صلگی کہا جاتا ہے اور جو ہر بڑی کامیابی کی لازمی شرط ہے۔ فرق و اختلاف کے ماحول ہی میں فکری چیلنج ظہور میں آتے ہیں جو انسان کے لئے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہیں۔ فرق و اختلاف ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسانی ترقی کا سفر محدود نہ ہو کرو سیع الاطراف ہو جائے، وغیرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ ”میں بھی ٹھیک تم بھی ٹھیک کا طریقہ کچھ پروفیشنل قسم کے لوگوں کے لئے محدود طور پر مفید ہو سکتا ہے، مگر وہ عام انسانیت کے لئے وسیع تر معنوں میں مفید نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues