Al-Risala · July 2000 · page 14

Thomas A Harris, MD, I AM OK- YOU ARE OK

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴

واقعی کا تعین کر سکے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ سچائی کو پانا دوسرے لفظوں میں گویا اپنی فروتنی (modesty) کو پانا ہے۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کبر (arrogance) تمام برے جذبات کا سر چشمہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں تواضع ہر قسم کی اعلیٰ کیفیات کا سر چشمہ ہے۔ ایسی حالت میں جب ایک آدمی سچائی کو دریافت کرتا ہے تو ایک طرف وہ اپنی ذات کے لئے یقین کو دریافت کرتا ہے اور دوسروں کی نسبت سے وہ ایک ایسی چیز دریافت کرتا ہے جس کی بنا پر وہ ان کے حق میں شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جاتا ہے۔ اس کے دل میں دوسروں کے لئے احترام کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ پرامن سماجی زندگی بجائے خود ایک ضروری چیز ہے مگر پرامن سماجی زندگی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو اپنے ذہن سے نکال دیں۔ چیزوں کے درمیان فرق کو جانتے ہوئے بھی پرامن زندگی کا حصول ممکن ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پرامن زندگی کا تعلق پختگی (maturity) سے ہے نہ کہ "میں بھی ٹھیک ، تم بھی ٹھیک " جیسے مصنوعی فارمولے سے۔

ہر آدمی اپنی ماں سے محبت کرتا ہے۔ ماں سے محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ مگر اپنی ماں سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی دوسرے کی ماں سے نفرت کرے۔ اپنی ماں سے گہری محبت کرتے ہوئے بھی آدمی دوسرے کی ماں کا مکمل احترام کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اس نے دوسرے کی ماں کو بھی اپنی ماں کے طور پر تسلیم کیا ہو۔ انسان کے اندر فطری طور پر اتنی زیادہ وسعت ہے کہ وہ بظاہر مختلف چیزوں کو بیک وقت اپنے سینہ میں جگہ دے سکے۔ اسی بات کو ایک مغربی مصنف نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

I am large enough to contain all these contradictions. سماجی ہم آہنگی کے معاملہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اختلاف (difference) کو کیسے ختم کیا جائے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے ہوتے ہوئے کس طرح سماجی ہم آہنگی کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page