Al-Risala · July 2000 · page 17

Its advent changed the course of human history.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷

ساتویں صدی عیسوی میں اسلام اس وقت کی بیشتر آباد دنیا میں داخل ہو گیا۔ اس کا یہ داخلہ معروف معنوں میں کوئی شمشیری داخلہ نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کا ایک آپریشن تھا۔ اس وقت ساری دنیا پر جمود کی حالت طاری تھی۔ سیاسی اعتبار سے ہر ملک میں جبر کی خاموشی چھائی ہوئی تھی، مذہبی دائرہ میں کلر جی یا مذہبی پیشواؤں نے انسانی سوچ کو محدود خول میں بند کر دیا تھا۔ کلچر کے نام سے اس زمانہ میں جو چیز پائی جاتی تھی وہ صرف توہماتی روایات کا ایک ڈھانچہ تھا جس کا عقل انسانی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ عام انسان جہالت کے اندھیرے میں زندگی گزار رہے تھے۔ نسل در نسل انسانیت کا حال یہ تھا کہ لوگ پیدا ہوتے تھے صرف اس لئے کہ وہ اس طرح مر جائیں کہ تاریخ میں ان کی کوئی خبر بھی درج نہ ہو۔ اس قبرستانی سناٹے سے انسانیت کو نکالنے کے لئے ایک عظیم ٹھوکر درکار تھی۔ یہ ٹھوکر بظاہر کسی قوم کے ذریعہ دی جانے والی تھی مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کی ایک ٹھوکر تھی۔ جس طرح زلزلہ فطرت کے زور پر آتا ہے اسی طرح یہ ٹھوکر بھی براہِ راست طور پر فطری قانون کے زور پر وجود میں آئی۔ اس ٹھوکر کے بغیر یہ ممکن نہ تھا کہ دنیا جامد دور سے نکل کر زندہ اور متحرک دور میں داخل ہو۔ اہل اسلام کے ذریعہ دنیا کو بھی تعمیری ٹھوکر دی گئی۔ یہ زیادہ بڑے پیمانہ پر ویسی ہی ایک ٹھوکر تھی جو کیرم بورڈ پر پیش آتی ہے۔ ایک کھلاڑی اپنے ماسٹر اسٹروک کے ذریعہ بورڈ کی تمام گوٹوں کو متحرک کر دیتا ہے، وہ ان کے سمٹاؤ کو حرکت اور سفر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اہل اسلام جب عرب سے نکل کر وسیع تر دنیا میں داخل ہوئے تو ان کا یہ داخلہ گویا فطرت کا ایک سیلاب تھا جس نے زندگی کی تمام سرگرمیوں کو یک لخت بدل دیا۔ سیاسی نقشے ٹوٹ گئے۔ مذہبی روایتیں ڈھہ پڑیں۔ تجارت و زراعت کے تمام شعبوں کی کایا پلٹ ہو گئی۔ انسانوں کا فکری جمود ٹوٹ کر فکری انقلاب میں تبدیل ہو گیا۔

اس دنیا میں ہر بڑی تبدیلی کے لئے فطرت کا ایک ہی عالمگیر اصول ہے اور وہ شاک ٹریٹمنٹ کا اصول ہے۔ اس دنیا کی تمام اہم تبدیلیاں اسی اصول کے تحت وقوع میں آتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page