Al-Risala · January 2000 · page 43

مظفر نگر کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳

کے نام پر اس کا نام مظفر نگر رکھا۔ مظفر نگر شہر کی آبادی تقریباڈھائی لاکھ ہے۔ اس میں تقریباً ۳۳ فیصد مسلمان ہیں۔

مظفر نگر ضلع ہی میں قصبہ پھلت ہے جہاں شاہ ولی اللہ صاحب ۴ شوال ۱۱۱۴ھ کو پیدا ہوئے۔ پھلت شاہ صاحب کا نانہال تھا۔ پھلت میں مولانا محمد کلیم صدیقی نے امام ولی اللہ معہد التربیۃ الاسلامیۃ کے نام سے ایک تعلیمی اور دعوتی ادارہ قائم کیا ہے۔ خاص طور پر دعوتی میدان میں وہ خاموشی کے ساتھ مفید خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس ادارہ کی طرف سے ایک ماہنامہ ارمغان شاہ ولی اللہ کے نام سے نکل رہا ہے۔

آج شاہ ولی اللہ دہلوی کا نام ہندوستانی علماء میں ممتاز ترین نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں قرآن وحدیث کے علم کو زندہ کیا۔ آج بھی شاہ ولی اللہ صاحب کا فارسی ترجمہ قرآن کا بہترین ترجمہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر جب شاہ ولی اللہ زندہ تھے تو ان کے ہم عصر مسلمانوں نے ان کے اوپر قاتلانہ حملہ کیا۔ چنانچہ انھیں روپوش ہو جانا پڑا۔ انقلابی مصلح ہمیشہ اپنے ہم عصروں میں غیر مقبول ہوتا ہے مگر بعد کو وہ لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ بابری مسجد کی تحریک پر آپ مسلم قیادت سے جدا ہوگئے ۔ میں نے کہا کہ یہ سراسر الزام ہے۔ مسجد کی اصل حیثیت کے بارے میں دوسروں سے میرا کوئی اختلاف نہیں تھا۔ دونوں میں جو فرق تھا وہ صرف یہ کہ میں یہ چاہتا تھا کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو غیر مظاہراتی انداز میں حل کیا جائے۔ جب کہ دوسرے مسلم رہنماؤں نے معاملہ کی نزاکت کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے اس کو غیر ضروری طور پر ایک مظاہراتی اشو بنا دیا۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ سراسر نادانی تھی۔ اور وہ ساری مصیبتیں اسی نادانی کی قیمت ہیں جو بعد کو ہمیں پیش آئیں۔

مظفر نگر کے بارہ میں ہندو مسلم فساد کی ایک خبر دہلی کے بعض اردو اخبارات میں ستمبر ۱۹۹۲ میں چھپی تھی ۔ میں نے مظفر نگر پہنچ کر اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page