مظفر نگر کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲
مثالی اتحاد پایا جاتا ہے۔ اسی لئے یہ لوگ ہر پہلو سے ترقی کر رہے ہیں اور مظفر نگر کے مسلمانوں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کے خاندانی اتحاد کا راز کیا ہے۔ عقیل احمد صاحب نے جواب دیا: ہم تینوں بھائیوں کا حال یہ ہے کہ کوئی چیز ہوتی ہے تو کوئی بھی اس کو خود لینے کی کوشش نہیں کرتا۔ ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ تم اسے لے لو۔
یہی مزاج اتحاد و ترقی کی جان ہے۔ جو لوگ لینے کے بجائے دینے کا مزاج رکھتے ہوں ان کے اتحاد و ترقی میں کبھی کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
’’گلزار ابراہیم‘‘ میں پہلے سے جناب شاہد صدیقی (ایڈیٹر نئی دنیا) اور پروفیسر اقبال حسین (جواہرلال نہرویونیورسٹی)موجود موجود تھے۔ ان سے ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں تھنک ٹینک (Think Tank) کی بہت اہمیت ہے۔ ہند وصاحبان چنتک منڈل قائم کرکے یہ مقصد حاصل کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی ایک مسلم تھنک ٹینک بنانا چاہئے۔ ان لوگوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ طے ہوا کہ جلد ہی انشاء اللہ محدود افراد پر مشتمل ایک مسلم تھنک ٹینک قائم کیا جائے گا۔
مظفر نگر کی سڑکوں پر ہر جگہ کافی بھیڑ دکھائی دی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یہ شہر اقتصادی سر گرمیوں کا شہر ہے۔ لیکن پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان سرگرمیوں میں زیادہ حصہ ہندوؤ ں کا ہے۔ مسلمان یہاں کی اقتصادی سرگرمیوں میں شریک ہیں تو وہ بھی دوسرے درجہ کی حیثیت سے۔ تقریباً یہی حالت دوسرے مقامات کی بھی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ مسلمان ابھی جدید اقتصادیات کی اہمیت کو نہیں سمجھے۔ عجیب بات ہے کہ سرسید نے جب علی گڑھ کالج (موجودہ یونیورسٹی) قائم کیا تو ایک عرصہ تک اس میں کامرس کا شعبہ موجود نہ تھا۔ اقتصادی شعور میں مسلمانوں کے اس پچھڑے پن کا اثر آج تک باقی ہے۔
مظفر نگر یوپی کا ایک شہر ہے۔ وہ دہلی کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ دہلی سے بذریعہ کار تقریباً تین گھنٹہ کا راستہ ہے۔ ایک مغل حاکم خان جہاں نے ۱۶۳۳ میں اس کو آباد کیا اور اپنے باپ مظفر خاں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues