امتحان کا پرچہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰
امتحان کا پرچہ
ایک آدمی کے سامنے گلاب کا ایک درخت ہے۔ وہ اس کا خوبصورت پھول توڑنا چاہتا ہے۔ اگر وہ تیزی کرے اور جلدی سے ہاتھ بڑھا کر پھول توڑے تو عین ممکن ہے کہ اس کا ہاتھ زخمی ہو جائے۔ اس کے بعد اگر وہ گلاب کے درخت کی شکایت کرے یا باغ کے مالی سے الجھ جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ یہ مسئلہ باغ کے مالی کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ وہ فطرت کا ایک اٹل قانون ہے۔ مذکورہ شخص کی غلطی یہ ہے کہ وہ بے صبری کر کے فطرت سے ٹکرا گیا۔ حالانکہ فطرت سے ٹکرا کر کوئی بھی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔
یہ صرف گلاب کے پودے کا معاملہ نہیں بلکہ یہی پوری دنیا کا معاملہ ہے۔ جس طرح گلاب کے پیڑ میں پھول بھی ہیں اور اسی کے ساتھ کانٹے بھی ، اسی طرح دنیا میں ہر طرف مسائل بھی ہیں اور مواقع بھی۔ جو لوگ مسائل میں اپنے آپ کو الجھائیں ان کی مثال اس نادان شخص کی سی ہے جو گلاب کے پیڑ میں کانٹے کو دیکھے اور اس سے الجھ جائے۔ اس کے برعکس جو لوگ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کریں وہ اس دانش مند کی طرح ہیں جو اپنے آپ کو کانٹوں سے بچائے اور احتیاط کے ساتھ پھول کو حاصل کرلے۔
دنیا کی یہ صورت حال اتفاقی نہیں ہے۔ یہ خود اللہ کے منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ اللہ نے انسان کو آزمائش کے لئے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ پوری دنیا اسی کے مطابق بنائی گئی ہے۔ دنیا میں پھول کے ساتھ کانٹے ہونا یا مواقع کے ساتھ مسائل کا پایا جانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ انسان کے لئے آزمائش کا پرچہ ہے۔ انسان کا خالق یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو اپنے آپ کو منفی جذبات سے بچاتا ہے، اور اپنے اندر مثبت نفسیات کی پرورش کرتا ہے۔ خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو منفی حالات میں بھی مثبت طرز فکر کا ثبوت دے، جو اشتعال والے حالات میں بھی مشتعل ہوئے بغیر رہ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues