Al-Risala · July 2000 · page 29

فہم دین: ایک اصول

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹

نہیں کر سکتا کہ وہ ان میں سے کسی ایک چیز کو لے کر یہ دعویٰ کرے کہ رسول اللہ ﷺ کو فلاں کھانا پسند تھا۔ ان روایتوں کے مطالعہ کے بعد جائز طور پر صرف دو بات کہی جاسکتی ہے۔ ایک یہ کہ ہر کھانے کو آپ خدائی رزق کے طور پر دیکھتے تھے۔ اس لئے ہر کھانے کو آپ شکر اور پسندیدگی کے جذبہ سے تناول فرماتے تھے۔ دوسرے یہ کہ کبھی ایسا ہو تا کہ آپ ایک غریب میزبان کے پیش کئے ہوئے معمولی کھانے کی اس طرح تعریف فرماتے تھے جیسے کہ وہ بہترین کھانا ہو، یہ تعریف غریب میزبان کی عزت افزائی کے لئے ہوتی تھی نہ کہ اپنی تعریف کے اظہار کے لئے۔ ۷۔ قرآن میں ہدایت پائے ہوئے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: الذین يستمعون القول فيتبعون احسنه اولئك الذين هداهم الله اولئك هم اولوا الالباب (الزمر (۱۸) یعنی تم میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو جو میری بات کو غور سے سنتے ہیں۔ پھر وہ اس کے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔

اس آیت کو اگر محض لفظی اعتبار سے دیکھا جائے تو بظاہر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قرآن یا پیغمبر کے کلام میں احسن پہلو بھی ہو سکتا ہے اور غیر احسن پہلو بھی۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قول کا غیر احسن پہلو صرف سننے والے کے دماغ میں ہوتا ہے نہ کہ خود قول میں۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس لئے اگر کوئی آدمی چاہے تو وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک سیدھی بات کا بھی الٹا مفہوم نکال سکتا ہے۔

اس غلطی سے بچنے کاراز صرف یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب کوئی بات آئے تو وہ کامل سنجیدگی کے ساتھ اسے دیکھے۔ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ یہ کوشش کرے کہ مجھے قول کا وہی مفہوم لینا ہے جو صاحب قول کی اصل مراد ہے۔ نہ کہ وہ مفہوم جو میرے اپنے دماغ میں ہے۔ آدمی کی سنجیدگی اور دیانت داری اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ تعبیر یا غلط تشریح سے اپنے آپ کو بچاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page