پہلا گروہ: برٹرینڈ رسل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲
میں نے اپنے لئے مذہب کا ایک قابلِ اعتماد بدل پا لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو نظر آیا کہ میتھمیٹکس میں منطقی تیقن (logical certainty) موجود ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ میں نے میتھمیٹکس کی صورت میں اس علم کو پا لیا ہے جس کو میرا ذہن تلاش کر رہا تھا۔ اس کے مقابلہ میں مذہب برٹرینڈرَسل کو تو ہمات (superstition) کا مجموعہ نظر آیا۔ چنانچہ اس نے مروجہ مذہب کورد کرکے میتھ میٹکس کو اپنے دین کے طور پر اختیار کر لیا۔
مگر بعد کو جب برٹرینڈرَسل نے زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا تو اس کا یہ یقین متزلزل ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ میرا یہ یقین حقائق کے سرسری مطالعہ پر مبنی تھا، حقائق کا زیادہ گہرامطالعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔
برٹرینڈرَسل کے بعد کے مطالعہ کے نتائج کو اس کی کتاب انسانی علم (Human Knowledge) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں برٹرینڈرَسل نے قطعی دلائل کے ذریعہ دکھایا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسانی مطالعہ کبھی بھی کسی کو یقینی علم تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایک طرف انسانی محدودیتیں اور دوسری طرف کائنات کی پر اسرار نوعیت (mysterious nature) فیصلہ کن طور پر یقینی علم کی راہ میں حائل ہیں۔ انسان کا مطالعہ آخر کار جہاں اس کو پہنچاتا ہے وہ تیقن (certainty) نہیں ہے بلکہ صرف قرینہ یا احتمال (probability) ہے۔ اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہم حقیقت (reality) کو براہ راست دریافت نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہ دریافت کر سکتے ہیں کہ احتمالی طور پر یہاں فلاں حقیقت موجود ہے، اگر چہ وہ براہ راست ہمارے تجربہ میں نہیں آتی۔
برٹینڈر سل کو اس کے تمام عمر کے مطالعہ نے جہاں پہنچایا وہ ایک ایسا مقام تھا جہاں وہ حقیقی مذہب کے عین قریب پہنچ چکا تھا۔ اگر اسلامی الفاظ استعمال کئے جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ لا الہ کی منزل تک پہنچ چکا تھا، مگر اس کے بعد وہ الا اللہ کی منزل طے نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ اس کی موت ہو گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues