Al-Risala · July 2000 · page 33

پہلا گروہ: برٹرینڈ رسل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳

برٹرینڈ رسل کی یہ بات کہ انسانی علم ہم کو صرف قرینہ یا احتمال (probability) تک پہنچاتا ہے، یہ اس کی ذاتی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام علماء سائنس کا موقف ہے۔ یہ اصول اب جدید علم کا ایک ایسا مسلمہ بن چکا ہے جس سے کسی بھی صاحب علم کو اختلاف نہیں۔ علمی تحقیقات کا اس حقیقت تک پہنچنا کہ اس دنیا میں، خالص علمی طور پر، ہم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم موجودہ علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو قدیم زمانہ میں فرض کر لیا گیا تھا۔ اب عقل(reason) کا موقف بھی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیدہ (belief) کا موقف تھا۔ مذہب کا موقف قدیم ترین زمانہ سے یہ تھا کہ سچائی یا حقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے، وہ نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمارے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے۔ اگرچہ وہ دکھائی نہیں دیتی۔ اب سائنس کا موقف بھی عین یہی ہو چکا ہے۔ جدید سائنس کا کہنا ہے کہ ہم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکھ سکتے، ہم چیزوں کے صرف ظاہری اثر (effect) کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور ظاہری اثر سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے، اگرچہ بظاہر وہ ہمارے مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آتی۔

برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قرینہ (probability) کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بھی اسی طرح مانیں جس طرح وہ سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ان حضرات کو جاننا چاہئے کہ اب ان کے لئے جن دو حالتوں کے درمیان انتخاب ہے وہ انکار مذہب اور اقرار مذہب نہیں ہے بلکہ وہ اقرار مذہب اور انکار خویش کے درمیان ہے۔ یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر ہوں تو انہیں خود اپنا انکار بھی کرنا پڑے گا۔ گا۔ چونکہ ان کے لئے اپنا انکار ممکن نہیں اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ مذہب کا انکار کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page