دوسرا گروہ: آئنسٹائن
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵
مختلف ہیں۔ ان میں وہ یکسانیت نہیں پائی جاتی جو سائنس میں موجود ہے۔ اس لیے وہ یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے۔ جو شخص جس مذہبی عقیدہ کو مانے وہی اس کا مذہب ہے، کسی دوسرے شخص کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔
اس قسم کا مذہبی تصور خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب کیا ہے۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ایسی مکمل آئیڈیالوجی کا نام ہے جو انسان اور کائنات کی اطمینان بخش توجیہہ کر سکے۔ جس میں انسان اپنے تمام داخلی اور خارجی سوالات کا جواب پالے۔ مذہب آدمی کے لیے یقین کا سر چشمہ ہے۔ جو مذہب کلی صداقت نہ ہو وہ انسان کو یقین کا سرمایہ نہیں دے سکت۱۔ اور جو مذہب انسان کو یقین نہ دے وہ مذہب بلاشبہ مذہب بھی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ جدید اہل علم مذہب کے مطالعہ میں چند غلطیاں کرتے ہیں۔ اس بنا پر وہ مذہب کو سمجھنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
ا۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر موجود مذہب کو مستند مذہب سمجھ لینا اور اس بنیاد پر مذہب کا مطالعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے توہماتی عقائد جو تش(Astrology) اور فلکیات (Astronomy) سب کو یکجا کر کے اور پھر ان کے مجموعی مطالعہ سے ایک علم الافلاک بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس معاملہ میں سائنٹفک مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ غیر ثابت شدہ خیالات اور اوہام کو الگ کر دیا جائے اور صرف ثابت شدہ معلومات کی بنیاد پر علم افلاک وضع کیا جائے۔
ٹھیک یہی طریقہ ہمیں مذہب کے مطالعہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ بطور واقعہ یہ درست ہے کہ آج کی دنیا میں مذہب کے نام سے بہت سے اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خالص علمی اعتبار سے تمام مذاہب کی حیثیت یکساں نہیں۔
ان میں ایسے مذاہب ہیں جن کی کوئی معلوم تاریخ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے تمام مذاہب ابتدائی طور پر ہی رد ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ جن مذاہب کو تاریخی اعتبار یت (historical credibility)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues