Al-Risala · July 2000 · page 36

دوسرا گروہ: آئنسٹائن

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶

حاصل نہ ہو وہ سرے سے اس قابل ہی نہیں کہ ان پر غور کیا جائے۔ اسی طرح کتنے مذاہب ہیں جن کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ ان کا موجودہ متن (text) کسی تبدیلی کے بغیر آج موجود ہے، اور جس مذہب کا خود متن مشتبہ ہو اس کی صداقت پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے مختلف علمی معیار (scientific criteria) ہیں جن کا استعمال مذاہب کے مطالعہ میں ضروری ہے۔ مگر جب ان معیاروں کو موجودہ مذاہب پر منطبق کیا جاتا ہے تو یہ مذاہب اس علمی جانچ پر پورے نہیں اترتے۔

- مذاہب کے پورے مجموعے میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو استثنائی طور پر اس خصوصیت کا حامل ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی جانچ پر پورا اترتا ہے۔ ایسی حالت میں تمام موجود مذاہب کو یکساں درجہ دے کر ان کا خلاصہ نکالنا ایک غیر علمی فعل ہے۔ اس معاملہ میں واحد درست موقف یہ ہے کہ ضروری علمی جانچ پر پورا اترنے والے مذہب کو لے لیا جائے اور جو مذاہب اس قسم کی علمی جانچ پر پورے نہ اتریں انہیں تاریخ کے کتب خانہ میں محفوظ کر دیا جائے۔ ۲۔ اسلام کو مذہب کا مستند ایڈیشن (authentic version) ماننے کے بعد وہ تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جاتی ہیں جو مختلف مذاہب کو یکساں درجہ دینے کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کائنات کے بارے میں توہماتی عقائد کو الگ کر کے خالص سائنسی حقیقتوں کی بنیاد پر کائنات کا مطالعہ کرنا۔

۳۔ اسلام کو مذہب کا واحد نما ئندہ ماننے کی صورت میں ہم کو ایک ایسا مستند ماخذ مل جاتا ہے جس کے ذریعہ مذہبی عقائد کا ایک غیر اختلافی نظام بنایا جا سکے۔ مثلاً مذاہب میں خدا کے بارے میں مختلف اور متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پیغمبری اور رسالت کے بارے میں سخت اختلافی نظریات موجود ہیں۔ موت کے بعد زندگی کی نوعیت کیا ہوگی، اس کے بارے میں بھی متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے تمام مذہبی عقائد وافکار کا ہے۔ مگر اسلام کو مذہب کے مستند ماخذ کی صورت میں لینے کے بعد ہمیں ایسے غیر اختلافی نظریات و عقائد

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page