دوسرا گروہ: آئنسٹائن
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷
مل جاتے ہیں جن پر ہم یقین کر سکیں ۔ یقین وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کے لئے انسان کو مذہب کی ضرورت ہے۔ اور تمام مذاہب کو یکساں ماننے کی صورت میں، اسی اصل مطلوب چیز سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔
۴۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذہب اور دنیوی معاملات کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہو۔ یہ ایک بے حد اہم سوال ہے جس کا جواب مختلف مذاہب میں مختلف انداز سے دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں دنیوی معاملات کو مذہب کا لازمی جزء قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کو نا قابل عمل نظر آنے لگا۔ یہاں تک کہ چرچ اور ریاست میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ اس معاملہ میں اسلام نے نہایت اہم ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
الف۔ اسلام میں ایک اہم تعلیم وہ ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: انتم اعلم بامور دنیاکم (صحیح مسلم) یعنی تم لوگ اپنی دنیا کے معاملہ میں زیادہ جانتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص دنیوی نوعیت کے معاملات، مثلاً زراعت، باغبانی، شہری منصوبہ بندی، اقتصادی تنظیم جیسی چیزوں کو علمی ریسرچ کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ یعنی علمی ریسرچ میں جو چیز انسانیت کے لئے مفید ثابت ہوگی وہی مذہب کے نزدیک بھی درست مانی جائے گی۔ ب۔ اسی طرح مذہب اور سیاسی حکمرانی کے معاملہ میں قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے سیاسی اقتدار دیتا ہے (آل عمران ۲۶) مزید یہ کہ سیاسی اقتدار امتحان کا ایک پرچہ ہے، جس طرح مال اور اولاد وغیرہ امتحان کے پرچے ہیں (یونس ۱۴)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی حکمرانی کے حصول کے لئے لڑائی کرنا اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فطری تاریخی حالات جس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کریں، دوسرے لوگ اس کو قبول کر کے اس کو اپنے امتحان کا موقع دیں، نہ کہ لڑائی کر کے اس سے سیاسی امتحان کے خدا داد پرچے کو چھیننے کی کوشش کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues