Al-Risala · July 2000 · page 39

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹

اتحاد کا فارمولا

نومبر۔ دسمبر ۱۹۹۹ میں امریکہ کے لئے میرا دوسواں سفر ہوا۔ موجودہ زمانہ میں امریکہ کو مادی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کا راز میں نے یہ جانا کہ امریکہ کے لوگ کٹر ذہن کے نہیں ہیں۔ وہ تجر بہ سامنے آنے کے بعد فوراً اس کے مطابق اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ میں یونی کلچرل ازم کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ یعنی یہ کوشش کی گئی کہ امریکہ کے تمام لوگ ایک ہی کلچر کو اختیار کر لیں۔ اس تحریک کو امر یکنائزیشن کا نام دیا گیا۔ مگر متنوع کلچر کے امریکی سماج میں اس نظریہ کو قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ اب امریکیوں نے اس کے جبری نفاذ کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ یونی کلچرل ازم کے نظریہ کو چھوڑ کر ملٹی کلچرل ازم کے نظریہ کو اختیار کر لیا۔

اب امریکہ میں ہر کلچرل گروپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ انھیں باقاعدہ تعاون دیا جاتا ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنے اپنے کلچرل روٹ پر قائم رہو۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلائزڈ سوسائٹی (stabilized society) اسی طرح بن سکتی ہے۔ جس سماج کے افراد اپنی ثقافتی جڑوں سے اکھڑ جائیں، وہ اکھڑے ہوئے پیڑ کی مانند ہیں۔ ایسے لوگ نہ اپنے کام کے ہوں گے اور نہ دوسروں کے کام کے۔ کلچرل نیشنلزم یا یونی کلچرل ازم ایک قسم کا نظریاتی جنون ہے۔ ایسا نظریہ تخریب کاری میں تو مددگار ہو سکتا ہے مگر وہ کسی قوم کی تعمیر کاری نہیں کر سکتا۔ اس کے پیچھے زبردست حکمت ہے۔ کسی قوم کا کلچر ہمیشہ تاریخی عمل کے دوران تدریجی طور پر بنتا ہے۔ کلچر کوئی نافذ کرنے کی چیز نہیں۔ کسی خود ساختہ کلچر کو جبری طور پر نافذ کرنا سوسائٹی کو ڈی اسٹیبلائز کرنے کے ہم معنی ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ سماجی انتشار ہوتا ہے۔ ہندوستان میں کلچر کے معاملہ میں صحیح طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ مہاتما گاندھی نے کہا کہ ”رام رحیم ایک ہے۔ مگر یہ ایک خلاف واقعہ بات تھی اس لئے وہ کامیاب نہیں ہوئی۔ خود مہاتما

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page