اتحاد کا فارمولا
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰
گاندھی بھی اس کو اختیار نہ کر سکے۔ ۱۹۴۸ میں جب ان کو گولی لگی تو انھوں نے "ہے رام ہے رحیم" نہیں کہا بلکہ اس وقت ان کی زبان سے جو لفظ نکلاوہ صرف یہ تھا : "ہے رام"۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا نظریہ جو ہندوستان میں ابھرا، وہ ہندو کا نظریہ تھا جس کو کلچرل نیشنلزم کہا جاتا ہے۔ یعنی سب کو ایک مفروضہ بھارتی کلچر کا پابند بنانا۔ دوسرے لفظوں میں اس کو رامنائزیشن آف رحمان کہا جاسکتا ہے۔ یہ دوسرا نظریہ نا قابل عمل ہونے کے ساتھ کٹر پن یا فنانسزم کا عنصر بھی اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ وہ عقل اور فطرت دونوں کے خلاف تھا اس بنا پر وہ نہ چلا اور نہ کبھی چل سکتا۔ صحیح اور فطری بات یہ ہے کہ کلچرل اختلاف کے معاملہ میں لكم دينكم ولى دين کا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی وہی طریقہ جس کو انگریزی میں کہا جاتا ہے : Let us agree to disagree۔ کلچر اپنی فطرت ہی میں متنوع چیز ہے۔ کلچر کے معاملہ میں صحیح پالیسی یہ ہے کہ ہر ایک کو آزادی دی جائے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ اپنی آزادی کو جارحیت کی حد تک نہ لے جائے ۔ گاندھی اور ان جیسے لوگوں کا نظریہ اس اصول پر مبنی ہے کہ تم مجھ کو سچا مانو میں تم کو سچا مانوں گا۔ اس کے مقابلہ میں ہندو تو کا نظریہ گویاتنوع کوبلڈ وز کرکے صرف ایک کو قائم کرنے کا نام ہے۔ مگر یہ دونوں ہی نا قابل عمل ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ ہر ایک اپنی پسند کے طریقہ پر چلے، اور دوسرا طریقہ اپنانے والوں کے ساتھ احترام کا معاملہ کیا جائے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فرق و اختلاف انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں۔ بالفرض اگر ہم مذہبی فرق کو ختم کر دیں تب بھی ہزاروں معاملات ایسے باقی رہیں گے جن میں لوگوں کے درمیان فرق و اختلاف موجود ہوگا۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ مجموعی انسانی زندگی کے لئے اتحاد کا فارمولا دریافت کیا جائے نہ کہ صرف مذہبی شعبہ کے لئے۔ اور یہ فارمولا صرف ایک ہے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا اور باہم مل جل کر رہنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues