Al-Risala · July 2000 · page 45

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵

جہاں تک میرا تعلق ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، بطور اصول کہتا ہوں نہ کہ بطور مجبوری۔ صبر میرے نزدیک ایک اعلیٰ اصول ہے نہ کہ مجبورانہ روش۔ اسی طرح صلح حدیبیہ میرے نزدیک ایک اعلیٰ اسلامی اصول ہے، وہ کوئی مجبورانہ پالیسی نہیں۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ جب مجبوری کی فضا نہ ہو تو مسلح تصادم کی باتیں کی جائے، اور جب مجبوری کی حالت پیش آجائے تو صلح حدیبیہ کا وعظ شروع کر دیا جائے۔ صلح حدیبیہ میرے نزدیک دعوتی عمل کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کی ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ نہ کہ کسی قسم کی مجبورانہ روش۔

سوال

میں آپ کے رسالہ کا خریدار ہوں۔ ایک حدیث کی وضاحت چاہتا ہوں۔ حدیث یہ ہے: اذان کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔ کیا مطلب ہے۔ کیا باقی اوقات میں اللہ تعالیٰ دعا قبول نہیں کرتا۔ یہ حدیث صحیح ہے یا غلط ہے یا مشکوک ہے۔ معلوم کریں۔ (محمد موسیٰ، مانوی، 584123-Pin) جواب آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ان الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة فادعوا (مسند احمد، الترمذی، کتاب الصلاة) یعنی اذان اور اقامت کے درمیان کی دعارد نہیں ہوتی، پس تم اس وقت اللہ سے دعا کرو۔ اس حدیث میں جو بات وقت کے حوالہ سے کہی گئی ہے وہ دراصل کیفیت کے حوالہ سے مقصود ہے۔ اذان کو سن کر مومن کے اندر یاد خدا کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ اس بنا پر اس وقت کی دعا میں وہ تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو قبولیت کی علامت ہے۔

اس حدیث کا خطاب اس مومن سے ہے جس نے مسجد سے اذان کی آواز سنی اور پھر اس کے دل میں وہ ربانی جذبات پیدا ہونے لگے جن کا اعلان اس وقت موذن کر رہا تھا۔ وہ اللہ کی کبریائی اور اس کی عظمت کے احساسات سے بھرا ہوا مسجد میں آیا۔ یہاں اس نے وضو کر کے اپنے کو پاک کیا، یہاں تک کہ اس کی زبان سے نکلا: رب اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page