Al-Risala · July 2000 · page 44

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴

اور اس طرح یقینی طور پر وہ اپنے آپ مر جاتی۔ اس طرح کے مسئلہ کا صحیح ترین حل وہ ہے جو اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کے ایک قول میں ملتا ہے۔ انھوں نے کہا: امیتوا الباطل بالصمت عنہ۔ یعنی باطل کو ہلاک کرو اس پر چپ رہ کر:

Kill the falsehood by observing silence over it. سوال آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ سارے لوگ آپ کی بولی بول رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کے مخالفین بھی آپ کا نام لئے بغیر آپ کی باتوں کو دہرارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماہنامہ میثاق (اپریل ۲۰۰۰) میں پاکستان کی تنظیم اسلامی کے امیر کا مفصل خطاب چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے صلح حدیبیہ کی پالیسی کی حمایت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ ”بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کے طرز کی مفاہمت ہمارے مسئلے کا حل ہے۔ حالانکہ یہ صاحب پہلے آپ کے مخالف تھے اور جوش و خروش کے ساتھ مسلح جدوجہد (armed struggle) کی بات کیا کرتے تھے۔ یہی بات دوسرے اکثر لکھنے اور بولنے والوں میں دیکھی جارہی ہے۔ اس طرح آپ کے اعتراف کے بغیر تقریباً تمام لوگوں نے آپ کے نقطہ نظر کو مان لیا ہے اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے (عبدالرحمن، نئی دہلی) جواب یہ بات عملی طور پر اطمینان بخش ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اب عام طور پر حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ مگر میرے لئے اس میں بہت زیادہ خوشی کی بات نہیں۔ میں حدیبیہ کی وکالت بطور ایک اصول کرتا رہا ہوں۔ مگر یہ حضرات اس کو ایک مجبورانہ عمل کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ مثلا ماہنامہ میثاق کے مذکورہ خطاب میں حدیبیہ پالیسی کی وکالت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کی طرز کی مفاہمت کرنی چاہئے (۲۵) پاکستان جس مسئلہ سے دوچار ہے اس کا علاج صلح حدیبیہ ہے (۱۵) پاکستان کے لئے جنگ جیتنا ممکن نہیں کیوں کہ پاکستان سے کہیں زیادہ ایٹم بم بھارت کے پاس موجود ہیں (۲۲)۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page