Al-Risala · July 2000 · page 47

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۷

دے رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی شاعر کے بقول: جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ (م۔ ا۔ معراج، ناندیڑ)

جواب

مسئلہ دین کو سیاست سے جدا کرنے کا نہیں ہے بلکہ دین کو چنگیزی سے جدا کرنے کا ہے۔ دین کے نام پر سیاست چلانا بجائے خود چنگیزی کی بد ترین قسم ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی سیاست سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دین نہیں ہے بلکہ سیاسی ہنگامہ آرائی، تشدد اور باہمی جنگ و جدال ہے۔ جس کا نمونہ آج ہر اس جگہ نظر آتا ہے جہاں نام نہاد اسلام پسند اسلام کے نام پر اپنی سیاست چلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین جب جدا ہوتا ہے تو سیاست سے جدا نہیں ہوتا بلکہ وہ انسان سے جدا ہوتا ہے۔ انسان کے دل سے جب اللہ کا خوف نکل جاتا ہے تو اس کی سیاست اور غیر سیاست سب چنگیزی بن جاتی ہے۔ اس کے بر عکس جو انسان اللہ کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو اس کی سیاست بھی رحمت ہوگی اور اس کی غیر سیاست بھی رحمت۔

سوال

آپ کے خیال میں علم و فکر کی فوقیت عمل پر ہے جیسا کہ عام خیال ہے کہ عمل پہلے ہے اور فکر بعد میں۔ اسلام کی روشنی میں واضح فرمائیں۔ (طارق اشفاق، علیگڑھ) جواب اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ نہیں۔ کامن سنس ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ کوئی بھی آدمی جو کوئی بڑا عمل کرتا ہے، اس کے عمل کا آغاز فکر کی دنیا سے ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر فکر کی سطح پر ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ خارجی عمل کی صورت اختیار کرتی ہے۔ یہی معاملہ ایمان و عمل کا بھی ہے۔ اسلام میں بھی خارجی عمل کا اصل سر چشمہ داخلی ایمان ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنا گہرا ایمانی شعور پیدا ہوگا، خارجی دنیا میں اتنا ہی زیادہ اس سے عمل کا اظہار ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page