خبر نامه اسلامی مرکز ۷ ۱۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۸
خبر نامه اسلامی مرکز ۷ ۱۳
اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن، سہارنپور کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سہارنپور کا سفر کیا۔ وہاں انھوں نے ۱۰ اپریل ۲۰۰۰ کو ایک عمومی جلسہ میں خطاب کیا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی پروگرام ہوئے ۔ اس کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے تحت شائع کی جائے گی۔ نئی دہلی کے ہندی اخبار ویر ارجن نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ویر ارجن کے شمارہ ۱۱ اپریل ۲۰۰۰ میں چھپا ہے۔ اس انٹرویو میں تفصیل کے ساتھ ملکی مسائل پر اظہار خیال کیا گیا۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے: مولانا وحید الدین خاں کا کہنا ہے کہ دیش میں انشکشت لوگوں کی سکھیا ادھک ہونے کے کارن ہم اس تیزی سے وکاس نہیں کر پارہے ہیں جس تیزی سے ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے دوسرے دیش کر رہے ہیں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ میں مہاتما گاندھی کے اس وچارسے سہمت نہیں ہوں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ میرے دیش کے لوگ انشکشت ضرور ہیں مگر وہ اگیانی نہیں۔ (صفحہ ۴)
دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ نے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر شیٹانک ورسز اور اس کے مصنف سلمان رشدی سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ کتاب ہمارے نزدیک بھی اتنی ہی غلط ہے جتنا کہ دوسرے لوگ اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ مگر اس مسئلہ کا حل تشدد نہیں ہے بلکہ علمی تردید ہے۔ میڈیا کے زمانہ میں اس طرح کے معاملات میں تشدد کا نتیجہ ہمیشہ الٹا (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ یہ انٹرویو ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲۰ اپریل ۲۰۰۰ میں اس کے صفحہ اول پر چھپا ہے۔
ایک مشترک سمینار میں شرکت کے لئے صدر اسلامی مرکز نے پانی پت اور کرنال کا سفر کیا۔ یہ سفر ۷ مئی ۲۰۰۰ کو ہوا۔ اس سفر کے تجربات اور خطابات انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کردئے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues