Al-Risala · January 2000 · page 45

مظفر نگر کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵

اس زمانہ میں ذہن کو بگاڑنے کا کام سب سے زیادہ اخبارات کر رہے ہیں۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے کالجوں کو قتل گاہ بتایا تھا۔ اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا: یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی مگر موجودہ زمانہ میں ذہنی قتل کا سب سے بڑا ادارہ خود ہماری صحافت ہے۔ یہ صحافت، خاص طور پر اردو ہفت روزے تو گویا ذہن کو بگاڑنے کے کارخانے ہیں۔

اسی مہینہ اکتوبر کے شروع میں مظفر نگر کو اخباروں کے پہلے صفحہ پر جگہ ملی تھی۔ اس کا سبب ۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کو مظفر نگر کے قریب ہونے والا وہ واقعہ تھا جس میں بہت سے نوجوان مرے اور بہت سے زخمی ہوئے۔

انڈیا کا اتری علاقہ پہاڑی علاقہ ہے۔ اس علاقہ کے لوگوں میں یہ تحریک ابھری ہے کہ اترا کھنڈ کے نام سے اس علاقہ کو علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے۔ علاقہ کے لوگ ۱۲ اکتوبر کو ٢٦ بسوں کے قافلہ کی صورت میں روانہ ہوئے تا کہ دہلی پہنچ کر اترا کھنڈ ریلی میں شریک ہوں۔ یوپی گورنمنٹ کے آرڈر کے تحت پولیس اور پی اے سی نے مظفر نگر کے پاس ان بسوں کو روک لیا۔ اس کے نتیجہ میں پولیس اور اترا کھنڈ حامیوں کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس نے نہایت سخت رویہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ گولی چلائی۔ اس حادثہ کے بعد علاقہ کے کئی شہروں میں تشدد پھیل گیا۔

دی پائنیئر (۱۲ اکتوبر ۱۹۹۳) میں مسٹر وی ایم با دولا کا اس پر ایک معلوماتی جائزہ چھپا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اترا کھنڈ مومنٹ ایک بے لیڈراور بے پتورا (leaderless, rudderless) تحریک ہے۔ اس کی حقیقت سسٹم کے خلاف اندھے غصہ (blind anger against the system) سے زیادہ نہیں۔ اس قسم کی جذباتی تحریکیں صرف تباہی پر ختم ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر سیاسی تحریکوں کی نوعیت یہی ہے۔ سیاسی تبدیلی کی تحریک چلانا ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام کے لئے صرف انھی سنجیدہ لوگوں کو اٹھنا چاہئے جو فی الواقع اس کی استعداد رکھتے ہوں اور وہ ایک لیڈر کی اطاعت بھی کر سکتے ہوں۔ جو تحریک بے لیڈر ہو یا اس کے کئی لیڈر ہوں وہ اپنے انجام کے اعتبار سے خود کشی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page