مظفر نگر کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶
ایک صاحب جوش وخروش کے ساتھ مسلمانوں کے لئے سروِسوں میں ریزرویشن کی حمایت کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ سرسید کی تعلیمی تحریک کے نتیجہ میں جب مسلمان سرکاری ملازمتوں میں لئے جانے لگے تو اکبر الہ آبادی (۱۹۲۱۔ ۱۸۴۶)نے نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا :
نہ نماز ہے نہ روزہ نہ زکوۃ ہے نہ حج ہے تو خوشی پھر اس میں کیا ہے کوئی جِنٹ کوئی حج ہے آج جب تبلیغی جماعت جیسی تحریکوں کی کوشش سے نماز روزہ کی کثرت ہو گئی تو مسلمان مقررین اس کا شکوہ کر رہے ہیں کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو نہیں لیا جاتا۔ میں نے کہا کہ ملازمتوں کا تعلق ریزرویشن سے نہیں ہے بلکہ محنت اور لیاقت سے ہے۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ غیر مسلموں سے تعلقات بڑھا رہے ہیں، اس سے کیا ملی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا خاص مقصد باہمی غلط فہمی کو دور کرنا ہے اور اسلام کی صحیح تصویر سے انھیں روشناس کرانا ہے۔ یہ فائدہ خدا کے فضل سے برابر حاصل ہو رہا ہے۔ اس سلسلہ کی مختلف مثالوں میں سے ایک مثال خبر نامہ ہے۔ الرسالہ میں ہر ماہ جو خبر نامہ چھپتا ہے اس کو آپ دیکھئے ۔ پچھلے چند سالوں میں اتنے زیادہ انٹرویو میڈیا کی طرف سے اسلام پر لئے گئے ہیں جو جے ۱۹۴ سے اب تک کسی کے ذریعہ نہیں ہوئے تھے۔ غیر مسلموں کے اجتماعات میں تقریر کے مواقع ، غیر مسلم جرائد میں اسلام کے موضوعات پر مضامین کی اشاعت ، اور اس طرح کی دوسری چیزیں اس کے علاوہ ہیں۔
۱۹۸۶ تک بابری مسجد کا مسئلہ صرف ایک مقامی مسئلہ تھا۔ عدالت کے پر امن دائرہ میں اس پر کارروائی ہو رہی تھی۔ اس وقت صرف تھوڑے سے ہندو اس سے وابستہ تھے۔ حتیٰ کہ خود ایودھیا کی ہندو اکثریت اس سے الگ تھی۔ مگر جب ملکی سطح پر اس کے لئے جلسہ جلوس کے ہنگامے کھڑے کئے گئے تو ہندو فرقہ بھی جاگ اٹھا۔ اس طرح جو معاملہ ابتداء صرف اجودھیاکے چندہندوؤ ں کا مسئلہ تھاوہ پورے ملک کے ہندوؤں کا مسئلہ بن گیا۔ نام نہاد لیڈروں کی یہی الٹی سیاست ہے جس نے مسجد کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues