فلسفۂ صحبت
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۵
زیر صحبت آدمی صاحبِ صحبت سے صرف علم حاصل نہیں کرتا، اس کے ساتھ، وہ ایک زاویہ نظر بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ صرف معلومات نہیں لیتا بلکہ وہ اسی سے تڑپ بھی پاتا ہے۔ اس کو صرف یہ فائدہ نہیں ہوتا کہ وہ کتابوں اور مصنفوں کے نام سن کر اپنی فہرست مکمل کرلے بلکہ اس کی صحبت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ علم کی ہواؤں میں سانس لے اور معرفت کے سمندروں میں نہائے۔ تاہم یہ فائدہ صرف حقیقی طالب کے لئے ہے نہ کہ محض ظاہری طور پر صحبت میں بیٹھنے والے کے لیے۔
قرآن میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے ”یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین (التوبہ (۱۱۹) یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ یہ سچے لوگ یا صادقین کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جن کا ظاہر و باطن یکساں ہو۔ (استوت ظواھرھم وبواطنھم)الجامع الجامع لاحکام القرآن للقرطبی - ۲۸۹/۸ اس قسم کے صادقین کی صحبت میں بیٹھنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ہر بیان مبنی بر حقیقت ہوتا ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں جو انہیں کہنا چاہئے، وہ وہی بولتے ہیں جو انہیں بولنا چاہئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں کے اندر سچائی کا مزاج پرورش پاتا ہے۔ وہ بے بنیاد باتوں میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے والے بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف ابھرتے ہیں۔ ان کی نیتوں میں پاکی اور ان کے قول میں سنجیدگی آ جاتی ہے۔ ایسے لوگ بے حد نادر الوجود ہیں جو صحبت سے یا اپنے ماحول سے اثر نہ لیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ دوسروں سے اثر لیتے ہیں۔ وہ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا کہ ان کے گرد و پیش کا ماحول ہو۔ اس لئے آدمی کو صحبت کے معاملہ میں بے حد محتاط رہنا چاہئے۔ قرآن کے مطابق قابلِ صحبت آدمی وہ ہے جس کے ظاہر اور باطن میں فرق نہ پایا جاتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues