Al-Risala · August 2000 · page 6

شیر کا طریقہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۶

شیر کا طریقہ

امریکہ کی ایک سائنٹفک سوسائٹی ہے جو ۱۸۸۸ میں قائم ہوئی اس کا نام نیشنل جغرافی سوسائٹی (National Geographic Society) ہے۔ اس ادارہ نے خصوصی اہتمام کے تحت شیروں کی زندگی پر ایک ڈا کو منٹری فلم بنائی ہے۔ یہ فلم شیروں کی حقیقی زندگی پر مشتمل ہے جو افریقہ کے جنگلوں میں خصوصی اہتمام کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔ میں نے اس کو وی۔ سی۔ آر پر دیکھا ہے۔ اس ڈا کو منٹری فلم میں شیر کی حقیقی زندگی کے بہت سے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس میں ایک منظر یہ تھا کہ شیر ایک جانور کا شکار کرتا ہے۔ بکری کے قسم کے اس جانور کو وہ منہ میں دبا کر لاتا ہے اور اس کو پانی کے ایک تالاب کے کنارے رکھتا ہے۔ اس کے بعد شیر تھوڑی دیر کے لئے وہاں سے ہٹ کر کہیں اور چلا گیا۔ وہ جب دوبارہ وہاں لوٹا تو وہاں یہ منظر تھا کہ تالاب کا ایک گھڑیال تیرتا ہوا کنارے کی طرف آیا۔ اس نے اپنا لمبا منہ نکال کر شکار کو اپنے منہ میں دبالیا اور اس کے بعد وہ پیچھے کی طرف پانی میں جانے لگا۔ ابھی وہ جانور کو لے کر پوری طرح پانی میں داخل نہیں ہو پایا تھا کہ شیر وہاں آگیا۔

بظاہر یہ شیر کے لئے ایک سخت اشتعال انگیز لمحہ تھا۔ اس کے شکار کو ایک اور جانور اس کی آنکھوں کے سامنے لئے چلا جارہا تھا۔ مگر شیر خاموشی کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے شکار کو چھیننے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ شکار اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ یہ شیر کا طریقہ ہے۔ شیر تمام جانوروں میں سب سے زیادہ طاقت ور جانور ہے، اس کے با وجود وہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ متحمل مزاج ہوتا ہے۔ وہ ٹکراؤ کے موقع پر آخری حد تک اعراض اور رواداری برتتا ہے۔ وہ طاقت کا استعمال صرف اس وقت کرتا ہے جب کہ اس کے سوا کوئی اور صورت باقی نہ رہ گئی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page