Al-Risala · August 2000 · page 13

اسلوب تنقید

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳

اسلوب تنقید

مولانا انیس لقمان ندوی نے بتایا کہ ۲۲ جون، ۱۹۹۸ء کو ابو ظمی میں ڈاکٹر عز الدین ابراہیم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس دوران ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ابتداء ہی میں میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ مجھ سے صرف فصیح عربی میں بات کریں۔ کیوں کہ میں فصیح عربی کے معاملہ میں اس سے زیادہ غیور ہوں جتنا غیور کوئی مرد اپنی بیوی کے معاملہ میں ہوتا ہے اور یہ کہ اگر آپ مجھے فصحیٰ میں گالی دیں تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ آپ عامی زبان میں میری تعریف کریں (كلمني من فضلك بالعربية الفصحى، فإني والله أغار على اللغة العربية الفصحى أكثر مما يغار الرجل على زوجته. ولو شتمتني بالفصحى، فإنه أحب إلى من أن تمدحني بالعامية) یہ سن کر وہ بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ بات آپ نے اتنے خوب صورت پیرایہ میں کہی ہے کہ وہ اس قابل ہے کہ ضرب المثل بن جائے (إن كلامك هذا مصوغ صياغة رائعة لدرجة أنه يكاد أن يكون مضرب المثل)

مولانا انیس لقمان ندوی نے مذکورہ عرب سے جو بات کہی وہ عربوں کے لیے ایک سخت تنقید کی حیثیت رکھتی تھی کیوں کہ عرب دنیا میں علماء تک کا یہ حال ہے کہ جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو غیر فصیح زبان بولنے لگتے ہیں۔ حتیٰ کہ مصر میں یہ حال ہے کہ فصیح زبان میں گفتگو کرنا ادبی اعتبار سے غیر معیاری ہے۔ ایسے آدمی کو دیہاتی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ غیر فصیح زبان بولنے کا رواج شہروں میں ہے نہ کہ دیہات میں۔

مگر اس کھلی تنقید کو انہوں نے برا نہیں مانا۔ اس کی وجہ تنقید نہیں ہے بلکہ تنقید کا اسلوب ہے۔ ناقد نے اگرچہ ایک تنقیدی بات کہی تھی لیکن اس کے لئے انہوں نے ایسا انداز اختیار کیا جو نہ صرف غیر جارحانہ تھا بلکہ اس میں عربی زبان کا ایک اعتراف بھی تھا۔ اس میں ایک عرب کے لئے اس کی پر فخر نفسیات کی تسکین موجود تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page