Al-Risala · August 2000 · page 12

توہین کا مسئلہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۲

توہین کا مسئلہ

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ توہین اسلام کا مسئلہ جانتے ہیں، مگر وہ توہین مسلم کا مسئلہ نہیں جانتے۔ اگر کوئی غیر مسلم اسلام کی توہین کردے تو تمام لوگ بھڑک اٹھیں گے اور اس کے خلاف پر جوش مہم شروع کر دیں گے۔ لیکن ایک مسلمان ہر روز دوسرے مسلمان کی توہین کرتا ہے اور اس پر کوئی نہیں بھڑکتا، اس کو اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے جینے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالاں کہ شریعت کے مطابق، مومن کااکرام فرض ہے اور مومن کی توہین حرام۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام کی توہین کرے تو ایسا واقعہ نہایت آسانی کے ساتھ مسلمانوں کے لئے قومی غیرت اور قومی فخر کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے فخر کو قائم کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلم کی توہین عملاً احتساب خویش کا مسئلہ ہے، اور احتساب خویش بلا شبہ ان لوگوں کے اوپر بہت سخت ہے جو اپنے دل میں اللہ کا خوف نہیں رکھتے۔ اسلام اللہ کا آخری دین ہے۔ اللہ نے اس کے لئے ابدی عظمت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ کسی شخص یا گروہ کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اسلام کو زیر کر سکے۔ اسلام کا ابدی محافظ خود اللہ ہے، اور اللہ سے بڑا محافظ اور کون ہو سکتا ہے۔

مگر جہاں تک تو ہین مسلم کا معاملہ ہے اس کی ذمہ داری خود مسلمانوں کے اوپر ہے۔ مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ کسی مسلمان کی توہین نہ کریں۔ اور جب کوئی شخص ایک مسلمان کی توہین کرے تو اس کو ایسا کرنے سے روک دیں۔ جو مسلم معاشرہ اس روح احتساب سے خالی ہو جائے وہ اللہ کی رحمتوں سے بھی دور ہو جائے گا۔

اغیار کی طرف سے قومی فخر پر زد پڑے تو اس پر بھڑک اٹھنا اور جب خود اپنی اصلاح یا احتساب کا مسئلہ ہو تو اس پر بے حس بنے رہنا ایمان کی موت کی علامت ہے نہ کہ ایمان کی زندگی کی علامت۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page