Al-Risala · August 2000 · page 15

گناہ کیا ہے

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵

قرآن کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کو جس طرح چاہے استعمال کرے مگر اس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ آزادی کے استعمال کے نتائج کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً انسان یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ آگ کے انگارہ کو اپنے ہاتھ میں لے یا نہ لے۔ لیکن آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد اس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس فعل کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تصور گناہ کیا ہے۔ اسلام کے نزدیک گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو غلط استعمال کرے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ خدا کی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائے۔

گناہ کی پہچان کیا ہے۔ اس کی ایک خارجی پہچان ہے اور ایک داخلی پہچان۔ خارجی پہچان سے مراد خدا کی کتاب ہے۔ خدا کی کتاب (قرآن) میں واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ کون سی چیزیں ہیں جو خدا کے نزدیک گناہ ہیں اور جن سے آدمی کو بچنا چاہئے۔ گناہ کی داخلی پہچان انسان کا ضمیر (conscience) ہے۔ قرآن کے مطابق، انسان کے اندر پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ (الشمس ۸) اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ: الاثم ما حاك في صدرك و كرهت أن يطلع عليه الناس ( صحيح مسلم، كتاب البر) یعنی گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم کو یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس کو جان لیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے (الروم ۳۰) یہی بات حدیث میں بھی بتائی گئی ہے (كل مولود يولد على الفطرة) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک گناہ کرنا انسان کا مقدر نہیں بلکہ وہ اس کے لئے choice کا ایک معاملہ ہے۔ انسان کو شیطانی طاقتیں بہکاتی ہیں۔ اسی طرح سماجی اسباب اس کو غلط راستہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ان اسباب سے متاثر ہو کر گناہ کرے تو وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اس سلسلہ میں اسلام کی دوسری تعلیم یہ ہے کہ گناہ کی تلافی ممکن ہے۔ اگر آدمی گناہ کے بعد توبہ کرے اور آئندہ وہ اس سے باز رہے تو وہ اللہ کے نزدیک قابل معافی ٹھہرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page