مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶
مغربی یوپی کا سفر
اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی دعوت پر سہارنپور کا سفر ہوا۔ ۹ اپریل، ۲۰۰۰ کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی اور ۱۰ اپریل کی شام کو واپسی ہوئی۔ اس سفر میں سہارنپور اور مغربی یوپی کے دوسرے علاقوں کے حالات جاننے کا موقع ملا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ جس تاریخ کو سہارنپور کا یہ پروگرام تھا ٹھیک اسی تاریخ کو بنگلور میں مختلف مذاہب کی ایک انٹر نیشنل کا نفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں بودھ پیشوا دلائی لامابھی آرہے تھے۔ انہوں نے ذاتی طور پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں اس میں ضرور شرکت کروں۔ ان لوگوں نے میرے مددگار سمیت سفر کے متعلق انتظامات بھی مکمل کر دئے تھے۔ مگر میں دونوں میں سے کسی ایک ہی پروگرام میں شریک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے بنگلور کو چھوڑ کر سہارنپور کا فیصلہ کیا۔ ۱۹ اپریل کی صبح کو دہلی سے شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ روانگی تھی۔ یہ ٹرین ہندستان کی ایک خصوصی ٹرین سمجھی جاتی ہے۔ مگر مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلہ میں وہ ہر اعتبار سے ایک معمولی ٹرین ہے۔
۱۹۴۷ سے پہلے برٹش حکومت کے زمانہ میں ہندستان کی ٹرینیں تقریباًاسی درجہ کی تھیں جیسا کہ یورپ کے ملکوں کی ٹرینیں۔ مگر آزادی کے بعد مغربی ملکوں کی ٹرینیں نمایاں طور پر بہتر ہوگئیں جب کہ ہندستان کی ٹرینیں ترقی کے اس انٹر نیشنل معیار تک نہ پہنچ سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندستان میں ترقی کا جو عمل ۱۹۴۷ تک جاری تھاوہ ۱۹۴۷ کے بعد اسی رفتار سے جاری نہ رہ سکا۔ حالانکہ ۱۹۴۷ کے بعد سے لے کر اب تک ہمارے ملک میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی دھوم رہی ہے۔ دونوں زمانوں میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ ایک لفظ میں وہ کرپشن ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ حکومت جو بجٹ بناتی تھی وہ پوری طرح انہیں مدوں میں خرچ ہوتا تھا جس کے لئے وہ بنایا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد بر عکس طور پر یہ ہوا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues