Follow one, respect all
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸
(difference) کا انکار کرنے کے بجائے علمی ڈائیلاگ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ مذاہب کا احترام کرتے ہوئے لوگ آپس میں اسی طرح مذہبی موضوعات پر کلام کریں جس طرح سیکولر لوگوں کے درمیان سائنسی موضوعات پر کھلی بحث کی جاتی ہے۔ اور کوئی اس کو برا نہیں مانتا۔ اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سماجی ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب کی تعلیمات ایک ہیں۔ مگر بطور واقعہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ مثال کے طور پر ہندو مذہب میں یہ عقیدہ ہے کہ آدمی موجودہ زندگی میں جو کرم کرتا ہے اس کو وہ دوبارہ اسی دنیا میں واپس آکر بھوگتا ہے اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ جبکہ اسلام میں یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی جو عمل کرتا ہے اس کا انجام موت کے بعد ہی اس کے سامنے آجاتا ہے اور جنت یا جہنم کی صورت میں وہ اس کو پاللیتا ہے، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی ہم آہنگی کا کوئی تعلق مذہبی یکسانیت سے نہیں۔ اگر ایسا ہو تا تو ایک ہی مذہب کے ماننے والے آپس میں نہ لڑتے جب کہ باہم لڑائی کی مثالیں ہر مذہب کے ماننے والوں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ سماجی ہم آہنگی کے لئے زیادہ صحیح فار مولا یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدہ کے مطابق، ایک مذہب پر عمل کریں اور دوسرے مذہب کے پیروؤں کا احترام کریں:
Follow one, respect all
کئی اخباروں نے تفصیلی انٹرویو لینا چاہا مگر وقت کی کمی کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ایک ہندی اخبارراشٹریہ سوروپ کے دو نمائندے مسٹرٹی ایم گاندھی اورمسٹرونود پیشگی اپائنٹمنٹ کے بغیر میری قیام گاہ پر آگئے۔ انھوں نے مختلف ملکی اور ملی مسائل پر سوالات کئے جن کا میں نے جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ملک کا اصل مسئلہ تعلیم ہے۔ جب تک تعلیم میں قوم آگے نہیں بڑھے گی کوئی بھی ترقی نہیں ہوسکتی۔
۱۰ اپریل ۲۰۰۰ کی شام کو سہارنپور سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ یہ سفر دوبارہ شتابدی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues