مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷
اس نظریہ کے حق میں قرآن کی ایک آیت پیش کی: وانہ لفی زبر الاولین (الشعراء ۱۹۶) انہوں نے کہا کہ زبر الاولین آدی گرنتھوں کا لفظی ترجمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوجس کو آدی گرنتھ کہتے ہیں اس کی باتیں قرآن میں بھی آئی ہیں۔
یہ دلیل نہیں بلکہ لفظی تک بندی ہے۔ لفظی مشابہت سے کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہوتی۔ اگر یہ کوئی دلیل ہو تو ایک شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ قرآن میں بھارت کے آدی باسیوں کا تذکرہ موجود ہے کیوں کہ قرآن میں آیا ہے کہ فی شیع الاولین (الحجر ۱۰) ۱۰)اورشیع الاولین آدی باسی کا لفظی ترجمہ ہے۔
لفظی مشابہت سے استدلال کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے کہا کہ انگریزی زبان کے تمام الفاظ اردو زبان سے لئے گئے ہیں۔ سننے والے نے کہا کہ وہ کیسے ۔ کہنے والے نے کہا کہ آپ کوئی لفظ بتائیے اور میں ابھی اس کو ثابت کردوں گا۔ سننے والے نے کہا کہ ڈیکوریشن (decoration) کس اردو لفظ سے لیا گیا ہے۔ کہنے والے نے فورا کہا: دیکھور نے شان سے۔ اسی طرح کہنے والے نے کہا کہ انگریزی شاعری سب کی سب ہندوستان سے امپورٹ کی گئی ہے۔ اس کے ثبوت میں اس نے کہا کہ شیکسپئر اصل میں ایک ہندوستانی شاعر شیخ پیرو تھا جس کو انگریزوں نے انگریزی میں ڈھال کر شیکسپئر بنادیا۔ ایک مجلس میں اس پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان میں دو قسم کے مذہبی رجحان نہایت غلط ہیں۔ اور ان سے کسی کو کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔ ان میں سے ایک رجحان یہ ہے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے جس کا علمی مطالعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً خدا کا تصور ہندو ازم میں مانزم (monism) پر مبنی ہے اور اسلام میں مانوتھی ازم (monotheism) پر۔ ہندو ازم میں خدائی اوتار کا تصور ہے اور اسلام میں پیغمبر کا تصور۔ ہندو ازم میں پنر جنم کا عقیدہ ہے اور اسلام میں موت کے بعد ہی جزاء وسزا کا تصور، وغیرہ۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان فرق
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues