Follow one, respect all
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰
سوال
کیا مادیت اپنے زوال کے بعد از سر نو عروج کو پہنچے گی؟ کیا جدید مادیت کا زوال ہو رہا ہے؟ اگر زوال ہو رہا ہے تو اس کی علامتیں کیا ہیں اور اگر اس کا زوال نہیں ہو رہا ہے تو آئندہ کب اس کا زوال ہو گا۔ کیوں کہ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ : ہر کمالے را زوال (طارق اشفاق، علیگڑھ) جواب میٹریلزم کے دو مطلب ہیں۔ فلسفیانہ معنوں میں میٹریلزم خدائی مذہب کے بالمقابل ایک اور مذہب کی حیثیت رکھتا ہے جو صرف مادہ کو واحد حقیقت مانتا ہے۔
In phliosophy, the doctrine that matter is the only reality and that everything in the world, including thought, will, and feeling, can be explained only in the terms of matter. (Webster's, p. 1110)
میٹریلزم اس مفہوم میں عملاً ختم ہو چکا ہے۔ جدید سائنس نے میٹر کے اس تصور کو مکمل طور پر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے جس کے اوپر مادی فلسفہ کا نظریہ قائم تھا۔ میٹریلزم کے لئے اب کوئی نظریاتی بنیاد نہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب، "مذہب اور سائنس“۔ میٹریلزم کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو عملی طور پر لوگوں کے اندر قائم ہے یعنی مادی خوشی یا مادی فائدے کو سب کچھ سمجھنا۔ مادی ترقی کو زندگی کا مقصد قرار دینا۔ اس دوسرے مفہوم میں میٹریلزم ہر دور میں تھی اور آج بھی وہ پوری طرح زندہ ہے۔ بیشتر لوگ اس کو اپنا مقصود بنائے ہوئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق اس دوسرے مفہوم میں میٹریلزم کبھی مرنے والا نہیں۔ وقتی لذت یا وقتی خوشی کا فریب اتنا زیادہ پر کشش ہے کہ آدمی کبھی اس کے سحر سے نجات نہیں پائے گا۔ اس لئے وہ کبھی اس مفہوم میں میٹریلزم کو نہیں چھوڑے گا۔
جہاں تک مادی تہذیب کا تعلق ہے، وہ میرے نزدیک مستقل بالذات کوئی چیز نہیں۔ انسانوں کی مادیت پسندی اجتماعی صورت اختیار کر کے تہذیب بن جاتی ہے۔ میرے نزدیک تاریخ کی ہر تہذیب بنیادی طور پر مادی تہذیب ہی تھی اس لئے اگر ایک مادی تہذیب مٹے تو عملاً
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues