Follow one, respect all
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱
صرف یہ ہوگا کہ اس کی جگہ دوسری مادی تہذیب آجائے گی۔ اس دنیا میں فرد کی حیثیت سے غیر مادی انسان کا وجود تو ممکن ہے مگر اجتماعی معنوں میں کسی ایسی انسانی تہذیب کا قائم ہونا شاید ممکن نہیں جو مجموعی معنوں میں غیر مادی اصولوں پر قائم ہو۔
سوال
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے بارے میں سنجیدہ لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ کے اعتبار سے جذباتی ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج موجود نہیں۔ جب کہ کسی بھی ترقی کے لئے غیر جذباتی سوچ اور حقیقت پسندانہ مزاج لازمی طور پر ضروری ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا یہ مزاج کیسے بنا اور اس کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر کے۔ عبد الستار، مدراس)
جواب
میرے نزدیک اس غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا آغاز زیادہ نمایاں طور پر انیسویں صدی میں ہوا۔ اس زمانہ میں مغربی قو میں مسلم علاقوں میں داخل ہو گئیں، انھوں نے تقریباً ہر جگہ براہ راست یا بالواسطہ انداز میں سیاسی اور تہذیبی طور پر غلبہ حاصل کر لیا۔ یہ وقت معاملہ کی تشخیص کا تھا۔ بد قسمتی سے اس وقت کے مسلم رہنماؤں نے معاملہ کی غلط تشخیص کر کے مسلمانوں کی سوچ کو غلط رخ پر ڈال دیا۔ ان حضرات نے مسلمانوں کو بتایا کہ اس واقعہ کے پیچھے تمام تر مغربی قوموں کی سازش اور ان کی دشمنی ہے۔ جب کہ صحیح بات یہ تھی کہ مسلمان اب اپنے دور زوال میں پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف مغربی قو میں تازہ دم قوتوں سے مسلح ہو کر آ رہی تھیں۔ اس کے بعد جو کچھ قانون فطرت کے تحت ہواوہ عین وہی تھا جو مقابلہ کی اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتا ہے۔
اس وقت مسلم رہنماؤں کو چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں سے یہ کہیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ قانون فطرت کے تحت ہوا ہے اور وہ خود تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے تو مسلمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues