Al-Risala · August 2000 · page 44

Follow one, respect all

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام اسلامائزیشن آف مین تھا مگر ان لوگوں نے اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ نہ صرف ایک غیر اسلامی نشانہ تھا بلکہ وہ اللہ کی ناقدری بھی تھی۔ موجودہ زمانہ میں پریس اور میڈیا اور کمیونی کیشن اور انٹرنیٹ نے دعوت کے مواقع کو ہزاروں گنا زیادہ وسیع پیمانہ پر ہمارے لئے کھول دیا ہے۔ ایسے دور میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا صرف ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر میں یہ کہوں گا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے۔ اللہ نے کمیونی کیشن کے عالمی ذرائع کھول کر ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم نہایت تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا تک پہنچا سکیں۔ پیغام رسانی کے اس کام میں آج کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا گویا اسلام کو ذبح کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سیاست ایک ایسا جرم ہے جو اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ مواقع کو تباہ کرنا اور تخریبی نشانوں پر قوم کو دوڑانا ہے جس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا۔

آپ جیسے نوجوانوں کو میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے حالات کے اعتبار سے دعوت کا کام شروع کر دیں۔ آپ کا دعوتی کام ہی آپ کے لئے وہ تربیت گاہ بن جائے گا جہاں آپ کو فطری عمل کے دوران دعوتی تربیت ملتی رہے۔ دعوت ہمیشہ حقیقی تجربہ کے دوران سیکھی جاتی ہے نہ کہ کسی رسمی کورس کے ذریعہ۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اتقوا الله و يعلمكم الله (البقره ۲۸۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کا اصل سر چشمہ تقویٰ ہے۔ آدمی کا اخلاص اور اس کا خوفِ خدا، دیانت داری اور شفقت علی الخلق اور مسئولیت کا احساس، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کے لئے علم و آگہی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔

تقویٰ کا تعلق علم سے یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کو زیادہ گہرے غور و فکر کے قابل بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page